کوئٹہ (این این آئی )حالیہ سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ جوڑ توڑ بلوچستان اسمبلی میں ہوسکتی ہے جہاں 11 سینیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا۔بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 65 ہے تاہم پشتونخواملی عوامی پارٹی کے منحرف رکن اور صوبائی وزیر ریو نیو کو الیکشن کمیشن نے نااہل قراردے کر ڈی سیٹ کردیا اب 65کے ایوان میں64ارکان اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے ۔ اسمبلی میں حکمران اتحاد کے اراکین کی تعداد 26 ہے
جس میں مسلم لیگ( ق )کے5، مسلم لیگ( ن) کے منحرف اراکین 15، مجلس وحدت مسلمین کا ایک، نیشنل پارٹی کے منحرف 3 اراکین ، بی این پی) عوامی (کا ایک منحرف رکن جبکہ ایک آزاد رکن شامل ہے۔اس کے برعکس اپوزیشن اتحاد38 اراکین پر مشتمل ہے۔ جس میں 13 پختونخوا ملی عوامی پارٹی، 8 نیشنل پارٹی، 8 جمعیت علمائے اسلام (ف)،7 مسلم لیگ (ن) ،2 بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایک کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔قائدِ ایوان کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے اور کابینہ اتحادی نمائندوں پر مشتمل ہے جن کی بڑی تعداد منحرف اراکین کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں ووٹوں کی خرید و فروخت بڑے پیمانے پر مکمل ہوگئی اور آزاد امیدوار بہت اہمیت اختیار کرچکے ہیں ۔ارکان صوبائی اسمبلی کا دعوی ہے کہ جو آزاد امیدوار سینیٹ کے انتخابات میں کامیاب ہوجائیں گے وہ پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں اور پیپلز پارٹی کا یہ دعوی سچ ثابت ہوجائے گا کہ انکے سینیٹ کے امیدوار 6سے 7ہونگے ۔اسمبلی میں اراکین کی تعداد کے لحاظ سے سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں میں سے ہر نشست کے لیے امیدوار کو 9 ووٹ لینے ہوں گے جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 2، 2 نشستوں کے لیے امیدواروں کو 50 فیصد یا 33 اراکین کے ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔26 اراکین پر مشتمل حکمراں اتحاد اگر متحد رہتا ہے تو 3 جنرل نشستوں کے علاوہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی ایک ایک نشست حاصل کرسکتی ہے۔ بقیہ پانچ جنرل نشستوں پرکس جماعت کے سینیٹرز منتخب ہوں گے؟۔اس کا جواب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پر منحصر ہے جن کے اسمبلی اراکین کی تعداد 38 ہے۔ایسے میں 4 جنرل نشستوں پر جمعیت علمائے اسلام( ف) ، مسلم لیگ )ن(، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی اپنا ایک ایک سینیٹرز منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے گی
جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر کچھ لو کچھ دو کا فارمولہ اپنایا جا سکتا ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ ماضی میں بلوچستان سے آزاد اراکین کے منتخب ہونے پر یہ باز گشت سنائی دے رہی ہے کہ جس کی جیب بھاری تھی وہ منتخب ہو گئے۔ اس تناظر میں یہاں سے منتخب ہونے والے سینیٹرز شک کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔بلوچستان سے سینیٹ کے خاص طورپر آزاد امیدواروں کی مکمل تگ ودوجمعہ کی رات تک جاری تھی اور ارکان اسمبلی سے انکے رابطے بھی تھے جو اپنے ووٹروں کو مضبوط کرتے رہے تاہم ہفتے کے روز نتیجہ سب کے سامنے غیر متوقع ہوگا کیونکہ اس وقت سب کی نظریں بلوچستان پر فوکس ہے اور بلوچستان سے آزاد کامیاب ہونیوالے سینیٹر ز اگر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تو سینیٹ کا آئندہ کا چیئرمین پیپلز پارٹی سے ہوگا ۔