جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

زندگی کے آخری لمحے میں جسم کے اندر کیا ہوتا ہے؟

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

جرمنی (مانیٹرنگ ڈیسک) زندگی کے آخری لمحے میں انسانی جسم کے اندر کیا ہوتا ہے ؟ اس راز کو جاننے کا دعویٰ سائنسدانوں نے کیا ہے۔ یہ دعویٰ جرمنی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق مرنے سے پہلے یا زندگی کے آخری لمحے میں برقی سرگرمی کی ایک لہر دماغ میں پیدا ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران محققین نے قریب المرگ مریضوں کی دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تھا۔

تاکہ جان سکیں کہ آخری لمحات میں جسم کے سب سے اہم عضو کس طرح کام کرنا بند کرتا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ جب جسم کے دیگر حصوں میں زندگی کے آثار ختم ہوجاتے ہیں تو بھی ذہنی شعور کچھ منٹ تک باقی رہتا ہے اور یہ پانچ منٹ تک برقرار رہ سکتا ہے۔ چریٹی یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران دماغی ماہرین کی ٹیم نے نو ایسے افراد کے دماغوں کے برقی سگنل کا جائزہ لیا جو انتقال کرگئے تھے۔ برلن اور سنسناٹی سے تعلق رکھنے والے ان تمام انتقال کر جانے والے مریضوں کو جان لیوا دماغی انجری کا سامنا تھا اور ماہرین نے ان کے سر پر الیکٹروڈز نصب کیے تھے تاکہ مرنے کے عمل کا میکنزم دیکھ سکیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کسی فرد کے دل کی دھڑکن تھمنے کے پانچ منٹ بعد تک بھی دماغی خلیات کام کرسکتے ہیں۔ مگر جب خلیات کام کرنا بند کرتے ہیں، اس لمحے ایک برقی لہر سی دماغ میں دوڑتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ جب یہ برقی لہر دوڑتی ہے تو دماغی خلیات کو توانائی دینے والے محفوظ الیکٹروکیمیکلز ختم ہونے لگتے ہیں اور موت کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اس عمل کو ریورس کیا جاسکتا ہے، خلیات اس وقت مرتے ہیں جب خون کی گردش تھمتی ہے اور آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے جنھیں یہ خلیات اپنے افعال کے لیے توانائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو دماغی خلیات وہ محفوظ توانائی استعمال کرتے ہیں۔

جو چند منٹ تک انہیں کام کرنے کا موقع دیتی ہے جس کے بعد وہ مکمل طور پر مرجاتے ہیں۔ اس پراسیس کو اسپریڈنگ ڈپریشن بھی کہا جاتا ہے جس کے دوران عصبی خلیوں میں ایک برقی رو دوڑتی ہے جس کے بعد اچانک خاموش ہوجاتے ہیں۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس عمل کا دورانیہ کتنا ہوسکتا ہے، اس بارے میں ابھی بحث کی جاسکتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Annals of Neurology میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…