منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی خطرناک قسم پھیلنے کا خدشہ ٗ اینٹی بائیو ٹکس دوائیوں کا بھی اثر نہیں ہورہاہے ٗ برطانوی تحقیق

datetime 25  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستانی و برطانوی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی ایک نئی مگر انتہائی خطرناک قسم پھیلنے کا خدشہ ہے، جس پر اینٹی بائیوٹکس دوائیوں کا بھی اثر نہیں ہو رہا۔ماہرین نے تاحال اس ٹائیفائیڈ کو کوئی مخصوص نام نہیں دیا تاہم تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ قسم اتنی خطرناک ہے کہ اس پر عام اینٹی بائیوٹک دوائیں بھی اثر نہیں کر رہیں، اور یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج اور پاکستان کی آغا خان یونیورسٹی کے ماہرین ٹائیفائیڈ کی اس نئی قسم پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں ٗجو پہلی بار نومبر 2016 میں رپورٹ ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق ٹائیفائیڈ کی اس خطرناک قسم کی شروعات صوبہ سندھ کے ضلع حیدرآباد کے تحصیل لطیف آباد سے ہوئی، جو فوری طور پر ملحقہ اضلاع اورعلاقوں تک پھیل گئی اور اب تک یہ برطانیہ تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خطرناک ٹائیفائیڈ صوبہ سندھ کے حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار، بدین اور جامشورو اضلاع کے دیگر علاقوں تک پھیل چکا ہے جس کے مریضوں میں حیران کن طور پر اضافہ دیکھنا میں آیا ہے۔مقامی ڈاکٹرز کے مطابق اس وقت حیدرآباد میں اس ٹائیفائیڈ میں مبتلا یومیہ کم سے کم 2 مریض آرہے ہیں، جن کی عمریں 3 سے 12 سال تک ہوتی ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق ٹائیفائیڈ کی اس خطرناک قسم کے مریضوں کو ابتدائی دنوں میں مسلسل اینٹی بائیوٹکس دی جاتی رہیں، مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، جس کے بعد اب متاثرہ علاقوں میں خصوصی اور مہنگی ویکسین فراہم کی گئی ہے۔رپوٹ کے مطابق حیدرآباد کے لطیف آباد اور قاسم آباد تعلقوں کے ڈھائی لاکھ بچوں میں خصوصی ویکسین ٹائپ ٗبار ٹی وی سی دی جا رہی ہے، کیوں کہ ان مریضوں پر بائیوٹکس اثر نہیں کر رہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ٹائیفائیڈ کی یہ قسم مضر صحت پانی استعمال کیے جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…