پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو یہ عادت ترک کردیں

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مانیں یا نہ مانیں مگر آج کے دور میں بیشتر افراد کے ہاتھ میں فون چپک رہتا ہے اور وہ اپنے ساتھ اس ڈیوائس کو ہر جگہ لے جاتے ہیں بشمول ٹوائلٹ میں بھی، یہ اب عام ہوچکا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ بظاہر معمولی نظر آنے والی یہ عادت جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے؟ جی ہاں ویسے بھی سننے میں یہ انتہائی حیران کن لگتا ہے کہ فون کو ہاتھ میں استعمال کرتے ہوئے ٹوائلٹ میں لے جایا جائے۔

مگر لوگ وہاں اس ڈیوائس پر مختلف کام، گیمز یا سرفنگ وغیرہ پسند کرتے ہیں۔ اور یہ سب اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے ہاتھ جراثیموں سے آلودہ مقام یعنی ٹوائلٹ میں ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کا تو کہنا ہے کہ موبائل کسی ٹوائلٹ میں جانے سے پہلے ہی جراثیموں سے بہت زیادہ آلودہ ہوسکتا ہے۔ ہر فرد کے فون میں جراثیموں کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے مگر یہ جاننا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس اور بڑی تحقیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ غیرمعمولی نہیں کہ کسی موبائل فون پر ایک لاکھ سے زائد جراثیم موجود ہوں اور اس طرح یہ بیکٹریا اور وائرس سے آلودہ چند بڑی چیزوں میں سے ایک ہے جن کا استعمال روزمرہ میں عام ہوتا ہے۔ یقیناً تمام جراثیم آپ کو بیمار نہیں کرسکتے مگر موبائل فونز پر کچھ جراثیم ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیمار کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب آپ فون کو ٹوائلٹ میں لے جانے کے عادی ہوں۔ یہ جراثیم فوڈ پوائزننگ اور معدے کے امراض سے لے کر موسمی نزلہ، زکام اور بخار کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح فون پر ای کولی اور دیگر جراثیم بھی ہوسکتے ہیں جو جان لیوا حد تک بیمار کرسکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ٹوائلٹ میں لوگ مختلف سطحوں کو چھوتے ہیں جنھیں دیگر افراد بھی چھو چکے ہوتے ہیں اور اس موقع پر ان کے ہاتھ جراثیم سے آلودہ ہوتے ہیں جو ایک سے دوسرے میں منتقل ہوجاتے ہیں۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…