پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پارٹی صدارت سے نااہلی کے بعد بھی نواز شریف کی مقبولیت ختم نہ ہوئی تو کون سا فیصلہ آ جائے گا؟ سوشل میڈیا پر ایسی چیز وائرل کہ فیصلہ کرنیوالوں کو بھی غصہ آ جائے گا

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے انتخابی اصلاحات 2017ء کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے میاں نواز شریف کو پارٹی صدارت سے نااہل کر دیا، اس فیصلے کے مطابق آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا پارٹی صدارت بھی نہیں کر سکتا۔ اس فیصلے پر نواز شریف کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل سے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ سوشل میڈیا پر ن لیگ کے حمایتی اپنے لیڈر کے دفاع میں پیغام جاری کر رہے ہیں

اور دوسری طرف تحریک انصاف کے حمایتی صارفین خوشیاں منانے میں مصروف ہیں، سید حیدر نقوی نامی ایک صارف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈر ہے کہ ڈر ہے کہ اس آخری حملے کے بعد بھی اگر نوازشریف کی مقبولیت ختم نہ ہوئی تو یہ فیصلہ بھی آ جائے کہ نااہل شخص کو زندہ رہنے کا بھی حق نہیں۔ اسی طرح ایک اور صارف حمزہ رضوان نے کہا کہ میرا لیڈر نوازشریف ہے اور وہی میرے لیے ن لیگ کے سربراہ ہیں، میں نوازشریف کو ہی ووٹ دوں گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک صارف منیب نے کہا کہ کس طرح ایک منتخب وزیراعظم اور ایک منتخب پارٹی سربراہ کو نا اہل کیا جا سکتا ہے کہ کیا یہ بنانا رپبلک ہے۔دوسری طرف تحریک انصاف کے ایک حامی نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کو مبارک ، اب نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا، سپریم کورٹ نے تاریخ فیصلہ دے دیا ہے، مزید کہا کہ پاکستان جیت گیا اور کرپٹ پولیٹیکل مافیا ہار گیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے بھی نا اہل ہوگئے ہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…