منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

وجیہہ الدین کو سپریم کورٹ کا جج ہونے کے ناطے بلایا اور سنا مگرانہوں نے غیر مناسب، بدتمیز رویہ اختیار کیا،الیکشن کمیشن نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے غیر اخلاقی رویئے کی شدید الفاظ میں کرتے ہوئے ان جیسے تمام لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس قسم کی دھونس دھاندلی سے مرعوب ہوگا اور نہ ہی جھکے گا،چیف الیکشن کمشنر ایک معزز آئینی ادارہ کے سربراہ ہیں انہوں نے وجیہہ الدین کو سپریم کورٹ کا جج ہونے کے ناطے سے بلایا اور سنا لیکن وجیہہ الدین نے تمام اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر مناسب اور بدتمیز رویہ اختیار کیا

جو کسی طور پر بھی انہیں زیب نہیں دیتا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بدھ کو اپنے جاری بیان میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ظفر عزیز خان نے عام لوگ اتحاد پارٹی کو ڈی لسٹ کرنے کے حوالے سے کمیشن سے رجوع کیا جس پر الیکشن کمیشن نے وجیہہ الدین احمد کو سماعت کے لئے نوٹس بھیجا۔کیونکہ وہ اس پارٹی کے صدارت کے دعویدار ہیں اور الیکشن کمیشن نے ان کو سننے کا موقع دیا۔ تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔کیس کی سماعت کے وقت مخالف فریق کے وکیل نے تاریخ کی تبدیلی چاہی کیونکہ وجیہہ الدین احمد نہ خود حاضر تھے نہ ہی ان کی طرف سے کوئی وکیل حاضر تھا۔ اور نہ ان کے آنے کی اطلاع کمیشن کو وصول ہوئی تھی۔ لہذا وجیہہ الدین صاحب ہی کے مفاد میں کیس کی سماعت ایک بار پھر ملتوی کردی گئی اور اگلی تاریخ کیلئے نوٹس جاری کیا گیا کیونکہ وجیہہ الدین صاحب کے آنے کی کوئی اطلاع نہیں تھی اس لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ پورا کمیشن تمام دن ان کے آنے کا انتظار کرتا۔آج سات مقدمات fix تھے جن میں وجیہہ الدین صاحب کا کیس 7 وین نمبر پر تھا۔ اس کے باوجود وہ تشریف نہیں لائے۔ کمیشن کے تمام ممبران کے اپنے کمروں میں جانے کے تقریباً 10 منٹ بعد اطلاع آئی کہ وجیہہ الدین صاحب آگئے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔

ان کے احترام میں چیف الیکشن کمشنر نے وجیہہ الدین صاحب کو اپنے چیمبر میں دعوت دی اور بہت احترام سے Recieve کیا۔ فریق مخالف کے وکیل کابھی پتہ کرایا گیا لیکن وہ الیکشن کمیشن سے جا چکے تھے۔ وجیہہ الدین احمد صاحب نے آتے ہی تمام وضح داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے تلخ کلامی کی اور اپنی غیر حاضری پر نادم ہونے کے اور اپنے مفاد میں بدلی گئی تاریخ پر مشکور ہونے کی بجائے غیر مناسب اور جارہانہ گفتگو شروع کردی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے انہیں

اس رویے سے منع کیا اور ساتھ آہستہ بولنے کی تلقین کی لیکن وجیہہ الدین باز نہ آئے اور ہتک آمیزالفاظ استعمال کئے۔جس پر چیف الیکشن کمشنرنے انہیں مزید سنے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ اس وقت تشریف لے جائیں اب آپ کو سماعت کے دن ہی سنا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے وجیہہ الدین کے غیر اخلاقی رویے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے وجیہہ الدین کو سپریم کورٹ کا جج ہونے کے ناطے سے ان کو بلایا اور سنا لیکن انہوں نے تمام اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے

غیر مناسب اور بدتمیز رویہ اختیار کیا جو کسی طور پر بھی انہیں زیب نہیں دیتا۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن اور اسکے تمام ملازمین نے وجیہہ الدین صاحب کے نہایت نامناسب طرز عمل کی شدید مزمت کی ہے۔ اور ان جیسے تمام لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس قسم کی دھونس دھاندلی سے نہ مرعوب ہوگا اور نہ جھکے گا۔چیف الیکشن کمشنر ایک معزز آئینی ادارہ کے سربراہ ہیں جو آرٹیکل 213 کے تحت تعینات ہوتے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…