منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف قانون سازی ،اہم سیاسی جماعتوں نے اپنا فیصلہ سنادیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مجبور ہوگئے

datetime 20  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آن لائن) اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلی عدلیہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قرارداد اور قانون سازی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد حکومت نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں توسیع کا فیصلہ واپس لے لیا جبکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے بھی اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف کسی بھی قسم کی قانون سازی کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے

دو دن میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دو ملاقاتیں کیں مگر یہ دونوں ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں کیونکہ پیپلز پارٹی نے واضح کردیا کہ جب تک کسی بھی قرارداد یا قانونی بل کا مسودہ انھیں نہیں دیا جاتا اس وقت تک وہ اس کی حمایت نہیں کر سکتے اور حکومت جلد بازی میں کوئی بھی اقدام نہ اٹھائے ورنہ اس کا نقصان ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اپوزیشن لیڈر کا مشورہ مان لیا ہے اور اب قومی اسمبلی اجلاس کو طول دینے اور قانون سازی کا معاملہ موخر کر دیا گیا حکومت قومی اسمبلی کا رواں سیشن کو جاری رکھنے کی خواہاں تھی مگر خورشید شاہ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے عدالتی فیصلوں کے خلاف قانون سازی نہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اب ویسے بھی وقت گزر گیا،کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہئیے ،خورشید شاہ نے کہا کہ ہم۔حمایت کر بھی دیں دیگر جماعتیں عدلیہ کے خلاف کسی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گی وزیر اعظم کو اس صورتحال میں اپوزیشن لیڈر کے موقف کی حمایت کرنا پڑی کیونکہ قانون سازی کی صورت میں اجلاس کو جاری رکھنا پڑتا اور اب حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس دو مارچ کو دوبارہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…