اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت کریں گے ، سعودی عرب

datetime 19  فروری‬‮  2018 |

میونخ(آئی این پی)سعودی عرب نے کہاہے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل کے خلاف اقوام متحدہ میں امریکہ اور برطانیہ کی مجوزہ قرارداد کی حمایت کرے گا۔جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف مجوزہ قرارداد منظور ہو گئی تو اس سے ایران کے ‘بیلسٹک میزائل کی برآمدات’ روکنے میں مدد ملے گی۔

برطانوی خبر رساں اداے ’’ رائیٹرز‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں، خطے میں ‘انتہا پسندی اور جارحیت’ اوردہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔یاد رہے کہ یمن میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یمن میں ایران حوثی باغیوں کے حمایت کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب نے 2015 سے یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ حوثیوں کو اسلحہ فراہم نہیں کر رہا ہے۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ ‘بیلیسٹک میزائل اور ایران کی جانب سے دہشت گردوں کی معاونت پر ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ حوثی باغی ایرانی میزائل استعمال کر کے ‘یمن اور سعودی عرب میں شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یاد رہے کے 26 فروری کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایران کے میزائل پروگرام کے خلاف قرارداد پیش کی جا رہی ہے۔ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو منظوری کے لیے نو ووٹ درکار ہیں لیکن روس کا قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جانے کا امکان کم ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے امید کا اظہار کیا کہ روس کی جانب سے ان اقدامات کی حمایت کی جائے گی۔اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودہ میں یمن پر مزید ایک سال تک پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت سلامتی کونسل ‘یمن میں بیلیسٹک میزائل کے استعمال سے منسلک کسی بھی اقدام پر پابندی لگا سکتا ہے۔

یمن پر عائد پابندیوں پر اقوام متحدہ کے غیر جانبدار معائنہ کاروں نے جنوری میں اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ استعمال کیے گئے میزائل ایران کے ہیں اور ہتھیاروں پر عائد پابندی کے بعد یہ یمن پہنچے ہیں۔’ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں ‘داغے گئے میزائلوں کی رسد فراہم کرنے والے کے بارے میں شواہد نہیں ہیں’ لیکن ایران نے میزائل سمیت اسلحے کی رسد روکنے کے پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔امریکہ میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا فی عرصے سے لابنگ کر رہی ہے کہ اقوام متحدہ ایران کے جارحانہ رویے کا محاسبہ کرے۔امریکہ نے کئی مرتبہ ایران اور عالمی ممالک کے مایبن 2015 میں ہونے والی جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…