منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی، سیاستدانوں، وکلا رہنمائوں، سول سوسائٹی کے اراکین کی شرکت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تعزیت کے بعد مغفرت کی دعا کی

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی معروف وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی ، سیاستدانوں، وکلا رہنمائوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معروف وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا انعقاد کیا گیا

جس میں سیاستدانوں، وکلا رہنمائوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نےشرکت کی۔ قرآن خوانی کا انعقاد ان کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا ۔ جماعت اسلامی کے بانی سید ابولاعلیٰ مودودیؒ کے جماعت اسلامی سے منحرف صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے قرآن خوانی کے بعد دعا کرائی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے عاصمہ جہانگیر کی خدمات کے پیش نظر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہاسٹل کو عاصمہ جہانگیر آڈیٹوریم اور لائبریری کو عاصمہ جہانگیر لائبریری سے منسوب کر دیا۔ قبل ازیں وکلا نے ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر کی وفات کا تیسرے روز بھی سوگ منایا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر ، انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور عاصمہ جہانگیر کیلئے دعائے مغفرت کی۔خیال رہے کہ معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر دل کا دورہ پڑنے کے باعث اپنے گھر میں صبح کے وقت انتقال کر گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے وہ نواز شریف اور ان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے موبائل کال پر محو گفتگو تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ دو روز قبل لاہور کے قذافی سٹیڈیم سے ملحقہ ایل سی سی گرائونڈ میں ادا کی گئی تھی جس میں کثیر تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

سید حیدر فاروق مودودی نے عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…