پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی، سیاستدانوں، وکلا رہنمائوں، سول سوسائٹی کے اراکین کی شرکت سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تعزیت کے بعد مغفرت کی دعا کی

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی معروف وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی ، سیاستدانوں، وکلا رہنمائوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معروف وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا انعقاد کیا گیا

جس میں سیاستدانوں، وکلا رہنمائوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نےشرکت کی۔ قرآن خوانی کا انعقاد ان کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا ۔ جماعت اسلامی کے بانی سید ابولاعلیٰ مودودیؒ کے جماعت اسلامی سے منحرف صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے قرآن خوانی کے بعد دعا کرائی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے عاصمہ جہانگیر کی خدمات کے پیش نظر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہاسٹل کو عاصمہ جہانگیر آڈیٹوریم اور لائبریری کو عاصمہ جہانگیر لائبریری سے منسوب کر دیا۔ قبل ازیں وکلا نے ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر کی وفات کا تیسرے روز بھی سوگ منایا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر ، انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور عاصمہ جہانگیر کیلئے دعائے مغفرت کی۔خیال رہے کہ معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر دل کا دورہ پڑنے کے باعث اپنے گھر میں صبح کے وقت انتقال کر گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے پہلے وہ نواز شریف اور ان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے موبائل کال پر محو گفتگو تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ دو روز قبل لاہور کے قذافی سٹیڈیم سے ملحقہ ایل سی سی گرائونڈ میں ادا کی گئی تھی جس میں کثیر تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

سید حیدر فاروق مودودی نے عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…