پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

’’پاکستانی قوم وہ ہیرا ہے جس کو کسی نے تراشا ہی نہیں‘‘ بیٹی سے آخری بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر پاکستان میں کس ایشو پر بہت زیادہ پریشان تھیں، بیٹی منیزے بتاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے نامور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر دو روز قبل دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی وفات پر پاکستان کی وکلا برادری سمیت سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سےاہل خانہ کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا سلسلہ جاری ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی بیٹی منیزے جہانگیر والدہ کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد وطن واپس پہنچ چکی ہیں۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے منیزے جہانگیر کا کہنا تھا کہ میری والدہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ جب میں چلی جائوں گی تو پھر تم لوگوں کو پتہ چلے گا، منیزے جہانگیر کا کہنا تھا کہ ہمارے پائوں تلے سے زمین نکل چکی ہے ۔ میری والدہ اپنے مشن کے ساتھ وابستہ رہیں انہیں جب بھی آرام کا مشورہ دیتی تو وہ منع کرتے ہوئے کہتیں کہ مجھے اپنا مشن پورا کرنا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اصولوں کے لیے لڑائی کی ۔وہ کہا کرتی تھیں کہ انسان تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اصول ہمیشہ قائم رہتے ہیں ان پر ڈٹے رہناچاہئے۔ وہ پاکستان میں جمہوریت کو لے کر پریشان تھیں۔وہ اکثر مجھے کہا کرتی تھیں کہ ہمارے پاکستانی وہ ہیرا ہیںجن کو کسی نے تراشا ہی نہیں ۔والدہ نے کینسر جیسے موذی مرض کو شکست دی ، دل کے عارضے میں مبتلا ہوئیں اور پھر ٹھیک ہو گئیں۔ ان پر کام کا بہت بوجھ تھا، بے شمار کیسز کی وجہ سے آرام کا وقت نہ ملتا جس پر میں عموماََ انہیں آرام کا مشورہ دیتی تھی جس پر وہ مجھے کہتی تھیں کہ جن لوگوں سے فیس لی ہوئی ہے ان کا کام کرنا ہے میں آرام نہیں کر سکتی۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے منیزے والدہ کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔واضح رہے کہ عاصمہ جہانگیر دو روز قبل صبح ناشتے سے قبل فون کال پر نواز شریف سے محو گفتگو تھیں اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کی خواہش تھی کہ وہ سپریم کورٹ میں طلال چوہدری کا توہین عدالت کا

مقدمہ لڑیں مگر اسی دوران عاصمہ جہانگیر کو دل کا دورہ پڑا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…