منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

جوڑوں کے درد سے محفوظ رہنا ہے تو یہ طریقہ اپنائیں

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک نئی تحقیق کے مطابق طویل فاصلے تک دوڑنے والے اتھلیٹ کے گھٹنے کسی نارمل آدمی کے گھٹنے سے زیادہ مضبوط اور پائیدار رہتے ہیں جب کہ اتھلیٹ عام افراد کی نسبت جوڑوں کے درد سے بھی محفوظ رہے۔ میراتھن ریس میں حصہ لینے والے اتھلیٹ کے متعلق یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان کے گھٹنوں کے جوڑ جلدی گھس جاتے ہیں اور ان اتھلیٹ کے پاس جوڑوں کے درد سے نجات پانے کے لیے واحد حل گھٹنے تبدیل کروانا ہوتا ہے لیکن اس تصور کو 31 ممالک میں ہونے والے

ایک نئی تحقیق کے نتائج نے غلط ثابت کر دیا ہے، اس تحقیق کے حیران کن نتائج نے طب اور کھیل کے درمیان گہرے بندھن کو مزید مضبوط کیا ہے، اس تحقیق کے مطابق طویل فاصلے تک دوڑنے والے اتھلیٹ کے گھٹنے زیادہ مضبوط رہتے ہیں۔ امریکہ کی تھامس جیفرسن یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ جوڑوں کے درد اور سوزش کی بیماری عام افراد میں 17.9 فیصد رہی جب کہ میرا تھن ریس میں حصہ لینے والے اتھلیٹس میں حیران کن طور پر صرف 8.8 فیصد سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق سے پہلے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اتھلیٹس میں گھٹنوں اور کولہوں کی ہڈی کے فریکچر، درد اور سوزش کی بیماریاں عام افراد کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں اور سابقہ ریسرچز میں بھی ملے جلے رجحان والے نتائج سامنے آئے تھے۔ نئی تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ میراتھن اتھلیٹس کی ہڈیوں کی کثافت، مضبوط پٹھے اور قابل رشک جسامت کی وجہ سے اتھلیٹس میں جوڑوں کے درد عام لوگوں کی نسبت نہایت ہی کم ہوتے ہیں اس کے علاوہ تحقیق میں کہا گیا کہ دوڑنے کے دوران مسلسل حرکت میں رہنے کے باعث کشش ثقل بھی کم ہو جاتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ گھٹنے کے درد اور اور ان کے درمیان موجود کارٹیج گھسنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس تحقیق سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر جوڑوں کے درد سے محفوظ رہناہے تو طویل فاصلے تک دوڑنے کی عادت ڈال لی جائے تاکہ جوڑوں کے درد کے علاوہ دیگر بیماریوں سے بھی بچا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…