منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ الیکشن جیتنے کیلئے آصف زرداری نے خزانے کی بوریوں کے منہ کھول دئیے، اراکین صوبائی اسمبلی کو خریدنے کیلئےکراچی سے ارب پتی تاجر اور صنعتکار دوست مدد کرنے پہنچ گئے،فی ممبر کتنے کروڑ میں بکا، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں بلوچستان میں اراکین صوبائی اسمبلی کی خریداری کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں سینیٹ انتخابات کیلئے جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرنے والے آصف زرداری کے دست راست سینیٹر ڈاکٹر قیوم سومرو

نے کوئٹہ میں ڈیرے لگا لئے اور ان کی ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات جاری ہیں، اسلام آباد اور کراچی کے ارب پتی صنعتکاروں اورٹھیکیداروں نے بھی مقامی ہوٹل میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جنرل نشست کیلئے پہلی ترجیح کیلئے ووٹ کا نرخ 8سے 10کروڑ تک پہنچ گیا۔ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد بھی ارب اور کھرب پتی ہے جو جیتنے کے بعد پیپلزپارٹی میں شامل ہو جائے گی، انہی کی مدد کیلئے قیوم سومرو کوئٹہ میں موجود ہیں۔ دوسری طرف تائید اور تجویز کنندگان کے بھی مزے ہو گئے جو آزاد امیدواروں سے 10سے 15لاکھ روپے صرف تائید اور تجویز کے وسول کر رہے ہیں۔ اکثر ارکان اسمبلی نے ریٹ بڑھانے کیلئے اپنے موبائل فون بند کر رکھے ہیں، پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کو اپنے امیدواروں کی کامیابی کیلئے سخت بھاگ دوڑ کے ساتھ ارکان اسمبلی کو قابو میں رکھنے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے ہونگے جس کی واضح مثال نئے وزیراعلیٰ میر قدوس بزنجو کو نیشنل پارٹی کے 3اور پشتونخواہ میپ کا ایک اعتماد کا ووٹ ملنا ہے۔ دوسری طرف ن لیگ کے منحرف اور ق لیگ کے ارکان اسمبلی کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ن لیگ کو بلوچستان سے سینٹ کی ایک بھی نشست ملنے کا امکان نہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل پیپلزپارٹی پر سینٹ الیکشن میں مخالف پارٹیوں کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات بھی سامنے آچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…