منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آبادہائی کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں، سپریم کورٹ

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے معروف اینکر پرسن ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے ٹی وی پر آنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عائد پابندی ختم کردی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اسلام آبادہائی کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عامر لیاقت کے وکیل بابر اعوان ایڈووکیٹ کو کہا ہے کہ عامر لیاقت نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

عامر لیاقت کو ہماری بات سمجھا دیں، اگر ہمارے احکامات کی پابندی نہیں کریں گے تو ٹی وی پر پروگرام نہیں کر سکیں گے، عدالت میں عامر لیاقت معتبر نہیں صرف سائل ہیں۔عامر لیاقت حسین کی اپیل پر سماعت کے دوران وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار نے مقدمہ واپس لے لیا لیکن ہائیکورٹ نے سو موٹو نوٹس لے کر پروگرام بند کردیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہائیکورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے عامر لیاقت پر عائد پابندی ختم کردی اور وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کو مخاطب کرکے کہا کہ

اگر عامر لیاقت نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، عامر لیاقت کو ہماری بات سمجھا دیں، اگر ہمارے احکامات کی پابندی نہیں کریں گے تو ٹی وی پر پروگرام نہیں کر سکیں گے، عدالت میں عامر لیاقت معتبر نہیں صرف سائل ہیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ان کے تاحکم ثانی ٹی وی پر آنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ درخواست گزار نے درخواست واپس لی تو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوموٹو نوٹس لے لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…