منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جنوبی پنجاب کیلئے خادم پنجاب کی صحت دوست پالیسز

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

لاہور( پ ر) خادم پنجاب کی صحت دوست پالیسیز کے پیش نظر جنوبی پنجاب میں 1399ملین روپے کی لاگت سے 150بستروں پر مشتمل ملتان انٹیٹیوٹ آ ف کڈنی ڈیزیزز بہاولپور بائی پاس، ملتان کے قریب مظفر گڑھ روڈ پر واقع گردے کی بیماریوں کی دیکھ بھال کیلئے تعمیر کیا گیا ہے MIKD پنجاب حکومت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اورمکمل طور پر فنڈ ہسپتال ہے MIKD نے جنوبی پنجاب میں بہترین صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی فراہمی

میں بہت کم عرصہ وقت میں ایک بلند مقام حاصل کر لیا ہے یہ اپنے فلٹر اور مشاورتی کلینک کے ساتھ 7 /24 مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے ۔کلینکل لیبارٹری اور ریڈیالوجی محکموں میں تازہ ترین آلات شامل کئے گئے ہیں جن میں 64 سی ٹی اسکین مشینیں شامل ہیں۔ہسپتال میں مریضوں کے علاج کے انتظامی مور کا جائزہ لیا جائے تو لیبارٹری: فی دن 675 ٹیسٹ ،الٹراساؤنڈ: 70 سے 80 مریض فی دن ،ایکس رے: 60 سے 70 مریض فی دن ،سی ٹی اسکین: 12 سے 15 مریض روزانہ اوردیگر ریڈ یالوجی پراسیس: 15 مریض روزانہکی بنیاد پر لوگوں کا علاج کیا جا رہا ہے جبکہلیتھوٹراپسی ڈپارٹمنٹ کی بات کی جائے توجنوبی پنجاب میں MIKD کی لیتھوٹراپسی خدمات سب سے بہتر ہیں۔یہ تازہ ترین ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر لیس ہیں۔نیفراولوجی وارڈ،یورالوجی وارڈ،انٹینسیو کئیریونٹ (آئی سی یو)،ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ (ایچ ڈی یو)اور 4آپریشن تھیٹرز کی سہولت کے ساتھ یہ اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے جہاں ہر روز پانچ آپریشن کئے جاتے ہیں. پنجاب کے دیگر ہسپتالوں میں بھی شعبہ صحت کو لے کر بہترین اقدامات کئے جا رہے ہیں۔چلڈرن ہسپتال لاہور کی سہولیات میں مزید اضافہ کرتے ہوے 150 بستروں کو شامل کیا گیا ہے جس پر 1929 ملین روپے لاگت آئی ہے ۔ 807 ملین روپے سے برن یونٹ، نشتر اسپتال، ملتان میں تعمیر کیا گیا ہے ۔411 ملین روپے کی لاگت سے شہباز شریف جنرل ہسپتال، ملتان،300 ملین کی لاگت سے ریجنل بلڈ سینٹر ، ملتان ،چلڈرن ہسپتال ، ملتان میں 150بیڈز کا اضافہ،150بیڈز پر مشتمل ملتان انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ذزیزز،نشتر ہسپتال ، ملتان میں عالمی معیار کا برن یونٹ ،گورنمنٹ شہباز شریف اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ،ملتان بھی گوڈ گورننس کی بہترین مثال ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…