منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی اسمگلنگ میں بڑے مافیاز ملوث، منڈی بہاؤالدین، کھاریاں، گجرات، سیالکوٹ، جہلم متاثرہ علاقے،سیکرٹری خارجہ کے چونکادینے والے انکشافات، چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے انسانی اسمگلنگ کا معاملہ حکام کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ منگل کو انسانی اسمگلنگ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت کے طلب کیے جانے پر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوئے۔ عدالت نے وقت نکال کر آنے پر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا شکریہ ادا کیا جب کہ اس موقع پر سیکرٹری خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ

انسانی اسمگلنگ میں مافیاز کا ہاتھ ہے، منڈی بہاؤالدین، کھاریاں، گجرات، سیالکوٹ، جہلم متاثرہ علاقے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کہا جاتا ہے ازخود نوٹس ہمارا اچھا اقدام نہیں، انسانی اسمگلنگ کے معاملے پر حکام کو خود کام کرنا چاہیے تھا ہم نے نوٹس لے کر غلطی کی ہے اور میں ویسے ہی آپ سے یہ بات شیئر کر رہا ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ حکومتی معاملات میں مداخلت ہوتی ہے جب کہ ہم نے ازخود نوٹس کے اختیار میں یہ کیس لگایا ہے۔ چیف جسٹس نے بلوچستان سے انسانی اسمگلنگ اور لیبیا میں کشتی ڈوبنے پر بھی سوال اٹھائے۔سپریم کورٹ نے انسانی اسمگلنگ کا معاملہ حکام کو خود مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 12 فروری تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔سماعت میں وقفے سے قبل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گجرات، لالہ موسیٰ، سرائے عالمگیر اور منڈی بہاؤالدین میں انسانی اسمگلنگ کا کام ہوتا ہے، لوگ کہاں کہاں سے پیسہ لے کر بچوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں لیکن اب انسانی اسمگلنگ کا ناسور ختم کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت کو حکم دیں گے کہ ایف آئی اے کو گجرانوالہ اور گجرات آفس میں سہولیات دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…