منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخواہ پولیس کا شرمناک چہرہ بے نقاب، پنجاب سے چوری ہونیوالی گاڑیاں اور منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونےکا انکشاف، عاصمہ رانی قتل کیس میں کیا کچھ ہوا،گھنائونا کردار سامنے آگیا

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے مردان کی اسما کے ڈی این اے میچ ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے پنجاب فرانزک لیب سے موصول ہونے والی رپورٹ کے پی حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے خیبرپختونخواہ پولیس اور تحریک انصاف کے رہنمائوں

کی جانب سے کے پی پولیس کی بے جا حمایت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنوں جیل ٹوٹنے سے لیکرمیڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل تک خیبرپختونخواہ پولیس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ تحریک انصا ف کے چیئرمین اور دیگر رہنما خواہ مخواہ راگ الاپتے رہے اور اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ سچ لگنے لگ جاتا ہے۔ اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخواہ حکومت منشیات ، گاڑیوں کی چوری اور دیگر غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہے مگر عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما اس سے متعلق بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا کہ پنجاب سے چوری ہونے والی تمام گاڑیاں خیبرپختونخواہ لے جائی جاتی ہیں اور تھانوں کے ساتھ کھڑی کی جاتی ہیں اور پھر مالکان کو فون کر کے اس کے بدلے پیسے طلب کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے عاصمہ رانی قتل کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور کے پی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کی بہن نے خود بیان دیاہے کہ عاصمہ رانی اپنے قاتل مجاہد آفریدی کے چچا جو کہ تحریک انصاف کے ضلعی صدر آفتاب عالم ہیں کو فون کر کے ا س کے بھتیجے سے متعلق آگاہ کرتی رہی مگر کسی نے اس کی بات نہیں سنی۔ قتل کے بعد بجائے اس کے پارٹی سطح پر آفتاب عالم سے وضاحت طلب کی جاتی تحریک انصاف والوں نے پولیس کی بے جاحمایت شروع کر دی اور مقامی پولیس کے ایس ایچ او ، ایس پی تک سے پوچھا نہیں گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…