منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

بڑھاپے کو دور رکھنے میں مددگار غذا

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) مچھلی، سی فوڈ، پنیر، سرخ گوشت، انڈوں اور چکن سمیت کم کاربوہائیڈریٹس والی سبزیاں جیسے پالک پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال بڑھاپے کی جانب سفر سست یا سدا بہار جوانی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

گلیڈاسٹون انسٹیٹوٹ فار وائرولوجی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کتون زا غذا یا زیادہ چکنائی اور کم مقدار میں گوشت نشاستہ دار غذا عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی تنزلی کا باعث بننے والے عناصر جیسے امراض قلب، الزائمر اور کینسر وغیرہ کی روک تھام کرتی ہے۔ مزید پڑھیں : 16 غذائیں جو بڑھاپے کی جانب سفر سست کریں تحقیق کے مطابق جب جسم کاربوہائیڈریٹس کی کمی محسوس کرتا ہے تو وہ ایسا کیمیکل خارج کرتا ہے جو خلیات کو ‘اندرونی تناﺅ’ سے تحفظ دیتا ہے، یہ تناﺅ خلیات میں جنیاتی نقصان کا باعث بن کر بڑھاپے کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج کا اطلاق متعدد دماغی عوارض جیسے الزائمر، پارکنسن، آٹزم اور دماغی انجری کا باعث بنتا ہے اور یہ امراض دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتے ہیں جبکہ علاج کے آپشن بہت کم ہیں۔ تحقیق کے مطابق کیتون زا غذا پر جسم کاربوہائیڈریٹس کی بجائے توانائی کے لیے چربی کو گھلاتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں : قبل از وقت بڑھاپے کی 5 علامات اس تحقیق کے دوران جب چوہوں پر اس غذا کے تجربات کیے گئے تو ان کے جسموں میں ایک یمیکل کی سطح بڑھی جس نے جنیاتی نقصان پہنچانے والے انزائمے کے اثرات کو بلاک کردیا۔ محققین کا کہنا تھا کہ برسوں کی تحقیق کے دوران ہم نے دریافت کیا کہ کیلوریز کا کم استعمال بڑھاپے کی رفتار سست اور طویل العمری کا امکان بڑھادیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی او ایچ بی نامی کیمیکل ورزش یا فاقے کے دوران جسم کا توانائی کے حصول کے لیے بنیادی ذریعہ ہوتا ہے جو نقصان دہ انزائمے کی روک تھام کرتا ہے اور خلیات کو بڑھاپے سے بچاتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنس میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…