منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا میں بڑی تعداد میں جاں بحق ہونیوالے افراد کو بھجوانے والا گروہ گرفتار،گروہ کا سربراہ معروف درگاہ کا گدی نشین نکلا، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

گجرات/گوجرانوالہ/منڈی بہاؤ الدین(این این آئی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گجرات، منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ میں کارروائی کرکے غیر قانونی طریقے سے لوگوں کو لیبیا بھیجنے والے ملزم سمیت متعدد انسانی اسمگلروں کو گرفتار کرلیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے مفخر عدیل کے مطابق مرکزی ملزم محبوب شاہ کو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔محبوب شاہ دربار بابا فقیر شاہ کا گدی نشین ہے

جس نے واقعے میں جاں بحق افراد کو لیبیا بھجوایا تھا۔ایف آئی اے افسر نے بتایا کہ محبوب شاہ کا بھائی لیبیااور بیٹا اٹلی میں مقیم ہے، ملزم ان دونوں کے ساتھ مل کر انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ محبوب شاہ لوگوں کو دبئی کے راستے لیبیا بھیجتا اور لیبیا سے سمندر کے راستے اٹلی پہنچایا جاتا تھا۔ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق دیگر ملزمان میں نثار احمد، صفدر، کامران اور اسلم شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملزمان غیر قانونی طریقے سے شہریوں کو یورپ بھجواتے تھے۔خیال رہے کہ دو روز قبل لیبیا کے قریب سمندر میں کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں متعدد پاکستانی جاں بحق ہوگئے تھے۔واقعہ کے بعد پنجاب میں انسانی اسمگلروں کی تلاش پھر سے شروع کردی گئی ہے۔گجرات سے تعلق رکھنے والے اسماعیل بہتر روزگار اور اچھے مستقبل کی تلاش میں اپنی بیوی عظمت بی بی، بیٹا 5سالہ سعد اور ڈیڑھ ماہ کی بیٹی کے ساتھ یورپ کے سفر کیلئے نکلے تھے تاہم یہ غیر قانونی تھا۔تحصیل جلال پور جٹاں کے لقمان علی اور حمزہ ڈنگہ شہر کے کامران اقبال اور کھاریاں کے ذبیح اللہ بھی اس سفر میں شامل تھے۔منڈی بہاؤالدین کے محمد قاسم بیگ، اکرام الحق، محمد فرحان اور محمد تنزیل بھی بہتر مستقبل کی خاطر اس کشتی میں سوار ہوئے تھے۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر ایف آئی اے حکام نے گجرات اور منڈی بہاوالدین میں مرنے والوں کے ورثاء سے ملاقات کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…