منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ انتخابات ٗ پی پی پی نے تھری خاتون کو سینیٹ کیلئے نامزد کردیا

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

تھر (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی نے تھر کے ضلع نگر پارکر سے تعلق رکھنے والی کولھی قبیلے کی خاتون کرشنا کماری کو سینیٹ انتخابات کی جنرل سیٹ کیلئے نامزد کردیا۔واضح ررہے کہ کرشنا کماری ایک سماجی رہنماء ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی میں اپنے بھائی کے ہمراہ شمولیت اختیار کی تھی۔کرشنا کماری کے بھائی پیپلز پارٹی کی جانب سے منتخب یونین کونسل بیرونو کے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔چاغو کولھی قبیلے کے ایک غریب خاندان

میں فروری 1979 میں پیدا ہونے والی کرشنا کماری اور ان کے اہل خانہ نے تقریباً 3 سال تک ضلع عمر کوٹ کے علاقے کنری کے زمیندار کے نجی جیل میں گزارا۔قید کے وقت کرشنا کماری تیسری جماعت کی طالبہ تھیں۔کرشنا کماری کی 16 سال کی عمر میں لال چند سے شادی ہوگئی تھی اور اس وقت وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں تاہم ان کے شوہر نے انہیں تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی۔کرشنا کماری نے 2013 میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے عمرانیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے تھر اور اس سے منسلک دیگر علاقوں کے مقامیوں کے حقوق دلانے کیلئے مہم میں بھی شرکت کی۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کرشنا کماری نے کہاکہ انہیں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنمائوں کی جانب سے ان علاقوں کی خواتین کو حقوق دلانے کے لیے سینیٹر منتخب کیے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔انہوںنے کہاکہ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ، رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ، رکن صوبائی اسمبلی مہیش کمار اور دیگر پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے اس حوالے سے پارٹی قائدین سے بات کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مجھے بلاول بھٹو اور فریال تالپور نے کچھ روز قبل بلایا اور کہا تھا کہ وہ مجھے سینیٹ کے عام انتخابات میں سندھ سے ٹکٹ دیں گے۔تھر سے پیپلز پارٹی کے قانون ساز ڈاکٹر مہیش کمار نے بتایا کرشنا کماری کو پارٹی کی جانب سے ٹکٹ دیے جانے کی تصدیق کی اور امید ظاہر کی کہ کولھی قبیلے کی خاتون انتخابات میں اکثریت سے جیت کر سامنے آئیں گی۔انہوںنے کہا کہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…