جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دس میں سے ہر ساتواں افغان مہاجر دوبارہ فرار ہو رہا ہے،نارویجیئن ریفیوجی کونسل کے حیرت انگیزانکشافات، پاکستان کو اہم مشورہ دیدیا

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

اوسلو(مانیٹرنگ ڈیسک)  بین الاقوامی امدادی ادارے نارویجیئن ریفیوجی کونسل (این آر سی) نے کہاہے کہ یورپ سے زبردستی واپس افغانستان بھیجے جانے والے افغان مہاجرین میں سے 72 فیصد شورش اور خانہ جنگی کے باعث دوبارہ اپنے وطن سے مہاجرت اختیار کر چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی امدادی ادارے نارویجیئن ریفیوجی کونسل (این آر سی) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اس ادارے کے مطابق افغانستان واپس روانہ کیے جانے والے مہاجرین ملک میں جاری شورش اور تشدد سے جان بچا کر دوبارہ وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اس ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ زبردستی واپس افغانستان روانہ کیے جانے والے بہتر فیصد افغان مہاجرین ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔نارویجیئن ریفیوجی کونسل نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی سکیورٹی بہتر نہیں، اس لیے افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل روک دیا جائے۔افغان جنگ سے فرار، آگے کیا ہو گا؟ نامی اس رپورٹ میں مختف ممالک میں پناہ کی غرض سے فرار ہونے والے ایسے افغان باشندوں کا انٹرویو کیا گیا، جنہیں واپس افغانستان بھیج دیا گیا تھا۔ان میں سے بہتر فیصد ایسے تھے، جو واپس ملک لوٹ کر ایک مرتبہ پھر افغانستان سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان میں متعدد ایسے افغان شہری بھی شامل ہیں، جو کم از کم تین مرتبہ افغانستان سے مہاجرت اختیار کر چکے ہیں۔ناورے کے امدادی ادارے این آر سی کے مطابق بے گھر ہونے والے تین چوتھائی گھرانوں کو مدد نہیں مل رہی ہے جبکہ دو میں سے ایک افغان باشندہ خوراک کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔گزشتہ صرف دو برسوں کے دوران ہی ایک ملین سے زائد افغان وطن چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 2017میں اوسطا ہر روز بارہ سو افغان شہری مہاجرت اختیار کرتے رہے۔اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس وسطی ایشیائی ریاست کے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک اور یورپی ملکوں کو افغان مہاجرین کی زبردستی ملک بدری کا سلسلہ ترک کر دینا چاہیے،واضح رہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ افغان شہری آباد ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…