منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ الیکشن:بلوچستان میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ،پس پردہ سیاسی جماعتوں کے رابطے

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان میں ہونیوالی سینیٹ انتخابات کے لئے سیاسی گہما گہمی جاری ہے مختلف سیاسی جماعتیں پس پردہ اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لئے رابطے کر رہے ہیں مسلم لیگ(ن) ، مسلم لیگ(ق) اور اس کے اتحادی جماعتوں 65 کے ایوان میں 39 ممبران کی حمایت کا دعویٰ کر تے ہوئے بتایا ہے کہ 4 جنرل ، 1 ٹیکنو کریٹ اور1 خواتین کی سیٹ پر ان کے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔

دوسری جانب سینیٹ انتخابات میں مگسی گروپ بھی اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لئے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں سابق گورنر ووزیراعلیٰ نواب ذوالفقار علی مگسی کے صاحبزادے سیف اللہ مگسی پیپلز پارٹی جبکہ ان کے والدہ پروین مگسی نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے فارم حاصل کئے ہیں پروین مگسی پر سابقہ دور حکومت میں جعلی ڈگری جمع کرانے پر عدالت میں کیس بھی زیر سماعت ہے نواب ذوالفقار علی مگسی کا ایک بھائی اس وقت بلوچستان اسمبلی کا رکن جبکہ ایک اور قریبی رشتہ دار اکبر مگسی رکن قومی اسمبلی ہے دوسری جانب مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے جمالی خاندان نے بھی اپنے قریبی عزیزوں کو کامیاب کرانے کے لئے جدوجہد شروع کر دیئے ہیں سابق وزیراعلیٰ جان محمد جمالی اپنی صاحبزادی ثناء جمالی کو کامیاب کرانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی جنہوں نے حال ہی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے اپنا امیدوار لانے کے لئے رابطے کر رہے ہیں مسلم لیگ اور ان کے اتحادی جماعتوں نے 6 ارکان کو منتخب کرانے کا دعویٰ کیا ہے اس وقت ثناء جمالی اور انوارالحق کاکڑ کو ٹکٹ جاری کرنے کا باقاعدہ فیصلہ ہو چکا ہے جبکہ دیگر کے لئے صلاح ومشورے جاری ہے پیپلز پارٹی کا بلوچستان اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہیں ۔

تا ہم اس کے صوبائی صدر سمیت مختلف رہنماؤں نے نامزدگی کے فارم حاصل کئے ہیں ذرائع نے یہ بتایا کہ مسلم لیگ اور ان کے اتحادی ارکان جن کا 39 ممبران کا دعویٰ کیا جا رہا ہے پارٹی پلیٹ فارم سے ہٹ کر آزاد حیثیت میں سینیٹ انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال کریں گے بی این پی، جمعیت علماء اسلام، نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ کے ارکان نے بھی کاغذات حاصل کئے ہیں تاہم باقاعدہ امیدواروں کا نام سامنے نہیں آیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…