منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وہ کونسا ہینڈسم نوجوان تھا جس نے عدالت پیشی کے موقع پر وکٹری کا نشان بنایا تھا؟شاہ زیب قتل کیس میں چیف جسٹس کے استفسارپر ملزم شاہ رخ جتوئی کا ایساجواب کہ فرعونیت کی ایک اور مثال قائم کر دی

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں گزشتہ روز شاہ زیب قتل کیس کی سماعت ، وہ کونسا ہینڈسم نوجوان تھا جس نے عدالت میں پیشی کے موقع پر وکٹری کا نشان بنایا تھا؟میں اس کو دیکھنا چاہوں گا،چیف جسٹس کے استفسار پرملزم شاہ رخ جتوئی مسکراتے ہوئے کھڑا ہو گیا ،

جی میں نے، اور وہ تو میرا بچپنا تھا،چیف جسٹس نے کرسی پر دوبارہ بیٹھنے کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں گزشتہ روز شاہ قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم شاہ ہ رخ جتوئی کی جانب سے فرعونیت کا ایک اور مظاہرہ سامنے آگیا ہے ، شاہ رخ جتوئی اس سے قبل قتل کیس کی سماعت کے دوران میڈیا کے سامنے ہاتھ کی انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتا رہا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے شاہ رخ جتوئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کون سا ہینڈسم نوجوان تھا جس نے عدالت میں پیشی کے موقع پر وکٹری کا نشان بنایا تھا؟میں اس کو دیکھنا چاہوں گا جس پر اسی وقت قتل کیس کے مرکزی کردار شاہ رخ جتوئی اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’جی وہ میں تھا ، اور وہ میرا بچپنا تھا‘‘چیف جسٹس نے فوری پر ملزم کو کرسی پر دوبارہ بیٹھنے کا حکم دیدیا۔ واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر دیت ادا کئے جانے کے بعد شاہ رخ جتوئی اور دیگر شریک ملزمان کو رہا کر دیا گیا تھا مگر سماجی کارکن جبران ناصر اور کراچی کے دیگر شہریوں کی درخواست پر سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کو مقدمہ دوبارہ سننے اور دو ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ ملزم شاہ رخ جتوئی کی جانب سے دیت میں کراچی ڈیفنس میں مقتول کے والد کو 500سو گز کا ایک بنگلہ،

آسٹریلیا میں ایک فلیٹ اور 27کروڑ روپے ادا کئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…