منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وقوعہ کے روز کیا ہوا تھا، فریحہ رزاق نے ڈرائیورز سےتمام گاڑیوں کی چابیاں کیوں لے لی تھیں،عینی شاہد گھریلو ملازم نے منہ کھول دیا، میر ہزار خان بجارانی قتل کیس میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ فریحہ رزاق کے درمیان اکثر جھگڑا رہتا، آپس میں لڑائی کے دوران انگلش زبان میں بات کرتے جو ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی، فریحہ رزاق نے تمام ڈرائیورز کو بلا کر گاڑی کی چابیاں لے لی تھیں، صاحب نے آفس سے گاڑی منگوائی اور بال کٹوانے گئے، وقوعہ کے روز معمول سے بڑھ کر تلخ کلامی ہوئی ، کمرے سے فائرنگ کی

آواز ساڑھے 6سے 7بجے درمیان سنائی دیں، کمرے کی طرف گیا تو وہ بند تھا، 10بجے ڈرائیور آیا تو تمام واقعے سے آگاہ کیا، گھریلو ملازم کے تفتیش کے دوران انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ فریحہ رزاق قتل کیس میں گھریلو ملازم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کے درمیان اکثر اوقات لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔ وقوعہ سے ایک روز قبل بھی دونوں کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔ اور فریحہ رزاق نے تمام ڈرائیورز کو بلا کر گاڑیوں کی چابیاں لے لی تھیں ، میر ہزار خان بجارانی نے بال کٹوانے جانا تھا تو انہوں نے گاڑی کی چابی طلب کی جس پر ہم نے انہیں بتایا کہ بیگم صاحبہ نے آپ کو گاڑی کی چابی دینے سے منع کر رکھا ہے جس پر صاحب نے آفس کال کر کے گاڑی منگوائی اور بال کٹوانے گئے۔ ملازم کا کہنا تھا کہ میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ آپس میں انگلش میں لڑائی کرتے تھے جو ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی۔وقوعہ کے روز بھی میاں بیوی میں شدید تلخ کلامی ہوئی تھی میں ڈرائنگ روم میں تھا جب صبح ساڑھے 6سے 7بجے کے درمیان کمرے سے فائرنگ کی آواز سن کر کمرے کی جانب بھاگا ، دروازہ کھولنے کی کوشش پر پتہ چلا کہ وہ اندر سے بند ہےدروازہ کھلنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں کھلا۔10بجے جب ڈرائیور آیا تو اسے تمام واقعے سے آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ پوسٹمارٹم رپورٹ آنے کے بعد پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی نے اپنی اہلیہ فریحہ رزاق کو تلخ کلامی کے دوران 30بور کے پسٹل سے تین گولیاں ماریں جن میں سے 2گولیاں ان کے پیٹ کے نچلے حصے میں لگیں جب کہ ایک گولی ان کے سر میں مار گئی تھی۔اہلیہ کو قتل کرنے کے بعد میر ہزار خان بجارانی نےاپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…