پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

فرانس بغیر کوئی گولی چلائے اپنی زمین کا تین ہزار مربع میٹر علاقہ سپین کے حوالے کیوں کر رہا ہے پھر سپین چھ ماہ بعد اس علاقے کو واپس بھی کر دے گا؟ حیرت انگیز وجہ سامنے آ گئی

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آنے والے کچھ دنوں میں دنیا کا سب سے غیر متنازعہ جزیرہ اپنا ملک بدل لے گا، اس کے بعد دوبارہ اگست میں یہ فرانس کے قبضے میں آ جائے گا،اگلے ہفتے فرانس بغیر ایک بھی گولی چلائے اپنی زمین کا تین ہزار مربع میٹر علاقہ سپین کے حوالے کر دے گالیکن اس کے چھ ماہ بعد سپین رضاکارانہ طور پر اس علاقے کو فرانس کو لوٹا دے گا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ گزشتہ ساڑھے تین سو سال سے جاری ہے۔ دریا کے بیچ میں واقع فیزاں نامی یہ پرامن جزیرہ درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔

یہاں کوئی نہیں رہتا البتہ یہاں ایک قدیم یادگار قائم ہے جو 1659ء میں ہونے والے ایک واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ فرانس اور سپین کے درمیان طویل جنگ زوروں پر تھی۔ اس دوران فیزاں جزیرے کو غیرجانب دار علاقہ تصور کیا گیا اور دونوں سرحدوں کی طرف سے شہتیروں کے پل بنائے گئے۔ مذاکراتی ٹیمیں پہنچ گئیں اور اس جزیرے میں امن مذاکرات شروع ہوئے جو تین ماہ تک چلتے رہے۔ اس موقع پر دونوں جانب فوجیں تیار تھیں۔ آخر کار امن معاہدہ طے پا گیا، علاقے تقسیم ہوئے اور سرحدوں کا نئے سرے سے تعین کر دیا گیا۔ معاہدے کی سیاہی پکی کرنے کے لیے فرانس کے بادشاہ لوئی چار دہم نے ہسپانوی شہنشاہ فلپ چہارم کی بیٹی سے شادی کر لی۔ اس معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ یہ جزیرہ دونوں ملکوں میں برابر تقسیم ہو گا۔ اس جزیرے کا علاقہ نہیں بلکہ اقتدار تقسیم ہو گا، یعنی یہ جزیرہ چھ ماہ تک ایک ملک کے پاس رہے گا اور چھ ماہ دوسرے ملک کے پاس رہے گا۔ اس جزیرے کا تمام انتظام فرانسیسی اور ہسپانوی نیول کمانڈروں کے ذمے ہے، لیکن اصل میں قریبی قصبوں ارون اور ہینڈائی کے میئر ہی اس جزیرے کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ہینڈائی قصبے کے پارک ڈویژن کے نگران بیوئی نے بتایا کہ وہ ہر سال کشتی کے ذریعے ایک ٹیم بھیجتے ہیں جو یہاں گھاس کاٹتی ہے اور درختوں کی شاخیں تراشتی ہے۔ لوئی چہاردہم اور فلپ چہارم کے درمیان 1660ء میں اسی جزیرے پر ملاقات ہوئی تھی،

کبھی کبھار یہاں عوام کو آنے کی اجازت ملتی ہے، اس بارے میں بیوئی نے بتایا کہ صرف معمر لوگ ہی اس میں دلچسپی لیتے ہیں اور نوجوانوں کو اس کی تاریخی اہمیت کا کچھ پتہ نہیں۔ یہ جزیرہ چھوٹا سا ہے، اس جزیرے کی لمبائی دو سو میٹر اور چوڑائی صرف 40 میٹر ہے، اس کے علاوہ اس جزیرے کا رقبہ بھی رفتہ رفتہ گھٹتا جا رہا ہے کیوں کہ دریا کا بہاؤ جزیرے کو آہستہ آہستہ کاٹ رہا ہے، صدیوں سے

یہ جزیرہ کٹتے کٹتے نصف رہ گیا ہے لیکن دونوں حکومتیں اسے بچانے کے لیے کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہیں۔ اس جزیرے پر کسی بھی ملک کا جھنڈا نصب نہیں کیا جاتا، ایک خیال تھا کہ جن چھ ماہ میں یہ جزیرہ جس ملک کے پاس ہے اس کا پرچم وہاں لہرایا جائے، لیکن اس لیے جھنڈا نہیں لگایا گیا کہ اس سے باسک علیحدگی پسندوں کو شہ ملے گی اور وہ اس جھنڈے کو اتار کر وہاں اپنا جھنڈا نصب کر دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…