پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

فرانس بغیر کوئی گولی چلائے اپنی زمین کا تین ہزار مربع میٹر علاقہ سپین کے حوالے کیوں کر رہا ہے پھر سپین چھ ماہ بعد اس علاقے کو واپس بھی کر دے گا؟ حیرت انگیز وجہ سامنے آ گئی

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آنے والے کچھ دنوں میں دنیا کا سب سے غیر متنازعہ جزیرہ اپنا ملک بدل لے گا، اس کے بعد دوبارہ اگست میں یہ فرانس کے قبضے میں آ جائے گا،اگلے ہفتے فرانس بغیر ایک بھی گولی چلائے اپنی زمین کا تین ہزار مربع میٹر علاقہ سپین کے حوالے کر دے گالیکن اس کے چھ ماہ بعد سپین رضاکارانہ طور پر اس علاقے کو فرانس کو لوٹا دے گا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ گزشتہ ساڑھے تین سو سال سے جاری ہے۔ دریا کے بیچ میں واقع فیزاں نامی یہ پرامن جزیرہ درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔

یہاں کوئی نہیں رہتا البتہ یہاں ایک قدیم یادگار قائم ہے جو 1659ء میں ہونے والے ایک واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ فرانس اور سپین کے درمیان طویل جنگ زوروں پر تھی۔ اس دوران فیزاں جزیرے کو غیرجانب دار علاقہ تصور کیا گیا اور دونوں سرحدوں کی طرف سے شہتیروں کے پل بنائے گئے۔ مذاکراتی ٹیمیں پہنچ گئیں اور اس جزیرے میں امن مذاکرات شروع ہوئے جو تین ماہ تک چلتے رہے۔ اس موقع پر دونوں جانب فوجیں تیار تھیں۔ آخر کار امن معاہدہ طے پا گیا، علاقے تقسیم ہوئے اور سرحدوں کا نئے سرے سے تعین کر دیا گیا۔ معاہدے کی سیاہی پکی کرنے کے لیے فرانس کے بادشاہ لوئی چار دہم نے ہسپانوی شہنشاہ فلپ چہارم کی بیٹی سے شادی کر لی۔ اس معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ یہ جزیرہ دونوں ملکوں میں برابر تقسیم ہو گا۔ اس جزیرے کا علاقہ نہیں بلکہ اقتدار تقسیم ہو گا، یعنی یہ جزیرہ چھ ماہ تک ایک ملک کے پاس رہے گا اور چھ ماہ دوسرے ملک کے پاس رہے گا۔ اس جزیرے کا تمام انتظام فرانسیسی اور ہسپانوی نیول کمانڈروں کے ذمے ہے، لیکن اصل میں قریبی قصبوں ارون اور ہینڈائی کے میئر ہی اس جزیرے کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ہینڈائی قصبے کے پارک ڈویژن کے نگران بیوئی نے بتایا کہ وہ ہر سال کشتی کے ذریعے ایک ٹیم بھیجتے ہیں جو یہاں گھاس کاٹتی ہے اور درختوں کی شاخیں تراشتی ہے۔ لوئی چہاردہم اور فلپ چہارم کے درمیان 1660ء میں اسی جزیرے پر ملاقات ہوئی تھی،

کبھی کبھار یہاں عوام کو آنے کی اجازت ملتی ہے، اس بارے میں بیوئی نے بتایا کہ صرف معمر لوگ ہی اس میں دلچسپی لیتے ہیں اور نوجوانوں کو اس کی تاریخی اہمیت کا کچھ پتہ نہیں۔ یہ جزیرہ چھوٹا سا ہے، اس جزیرے کی لمبائی دو سو میٹر اور چوڑائی صرف 40 میٹر ہے، اس کے علاوہ اس جزیرے کا رقبہ بھی رفتہ رفتہ گھٹتا جا رہا ہے کیوں کہ دریا کا بہاؤ جزیرے کو آہستہ آہستہ کاٹ رہا ہے، صدیوں سے

یہ جزیرہ کٹتے کٹتے نصف رہ گیا ہے لیکن دونوں حکومتیں اسے بچانے کے لیے کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہیں۔ اس جزیرے پر کسی بھی ملک کا جھنڈا نصب نہیں کیا جاتا، ایک خیال تھا کہ جن چھ ماہ میں یہ جزیرہ جس ملک کے پاس ہے اس کا پرچم وہاں لہرایا جائے، لیکن اس لیے جھنڈا نہیں لگایا گیا کہ اس سے باسک علیحدگی پسندوں کو شہ ملے گی اور وہ اس جھنڈے کو اتار کر وہاں اپنا جھنڈا نصب کر دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…