جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

فرانس بغیر کوئی گولی چلائے اپنی زمین کا تین ہزار مربع میٹر علاقہ سپین کے حوالے کیوں کر رہا ہے پھر سپین چھ ماہ بعد اس علاقے کو واپس بھی کر دے گا؟ حیرت انگیز وجہ سامنے آ گئی

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آنے والے کچھ دنوں میں دنیا کا سب سے غیر متنازعہ جزیرہ اپنا ملک بدل لے گا، اس کے بعد دوبارہ اگست میں یہ فرانس کے قبضے میں آ جائے گا،اگلے ہفتے فرانس بغیر ایک بھی گولی چلائے اپنی زمین کا تین ہزار مربع میٹر علاقہ سپین کے حوالے کر دے گالیکن اس کے چھ ماہ بعد سپین رضاکارانہ طور پر اس علاقے کو فرانس کو لوٹا دے گا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ گزشتہ ساڑھے تین سو سال سے جاری ہے۔ دریا کے بیچ میں واقع فیزاں نامی یہ پرامن جزیرہ درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔

یہاں کوئی نہیں رہتا البتہ یہاں ایک قدیم یادگار قائم ہے جو 1659ء میں ہونے والے ایک واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ فرانس اور سپین کے درمیان طویل جنگ زوروں پر تھی۔ اس دوران فیزاں جزیرے کو غیرجانب دار علاقہ تصور کیا گیا اور دونوں سرحدوں کی طرف سے شہتیروں کے پل بنائے گئے۔ مذاکراتی ٹیمیں پہنچ گئیں اور اس جزیرے میں امن مذاکرات شروع ہوئے جو تین ماہ تک چلتے رہے۔ اس موقع پر دونوں جانب فوجیں تیار تھیں۔ آخر کار امن معاہدہ طے پا گیا، علاقے تقسیم ہوئے اور سرحدوں کا نئے سرے سے تعین کر دیا گیا۔ معاہدے کی سیاہی پکی کرنے کے لیے فرانس کے بادشاہ لوئی چار دہم نے ہسپانوی شہنشاہ فلپ چہارم کی بیٹی سے شادی کر لی۔ اس معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ یہ جزیرہ دونوں ملکوں میں برابر تقسیم ہو گا۔ اس جزیرے کا علاقہ نہیں بلکہ اقتدار تقسیم ہو گا، یعنی یہ جزیرہ چھ ماہ تک ایک ملک کے پاس رہے گا اور چھ ماہ دوسرے ملک کے پاس رہے گا۔ اس جزیرے کا تمام انتظام فرانسیسی اور ہسپانوی نیول کمانڈروں کے ذمے ہے، لیکن اصل میں قریبی قصبوں ارون اور ہینڈائی کے میئر ہی اس جزیرے کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ہینڈائی قصبے کے پارک ڈویژن کے نگران بیوئی نے بتایا کہ وہ ہر سال کشتی کے ذریعے ایک ٹیم بھیجتے ہیں جو یہاں گھاس کاٹتی ہے اور درختوں کی شاخیں تراشتی ہے۔ لوئی چہاردہم اور فلپ چہارم کے درمیان 1660ء میں اسی جزیرے پر ملاقات ہوئی تھی،

کبھی کبھار یہاں عوام کو آنے کی اجازت ملتی ہے، اس بارے میں بیوئی نے بتایا کہ صرف معمر لوگ ہی اس میں دلچسپی لیتے ہیں اور نوجوانوں کو اس کی تاریخی اہمیت کا کچھ پتہ نہیں۔ یہ جزیرہ چھوٹا سا ہے، اس جزیرے کی لمبائی دو سو میٹر اور چوڑائی صرف 40 میٹر ہے، اس کے علاوہ اس جزیرے کا رقبہ بھی رفتہ رفتہ گھٹتا جا رہا ہے کیوں کہ دریا کا بہاؤ جزیرے کو آہستہ آہستہ کاٹ رہا ہے، صدیوں سے

یہ جزیرہ کٹتے کٹتے نصف رہ گیا ہے لیکن دونوں حکومتیں اسے بچانے کے لیے کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہیں۔ اس جزیرے پر کسی بھی ملک کا جھنڈا نصب نہیں کیا جاتا، ایک خیال تھا کہ جن چھ ماہ میں یہ جزیرہ جس ملک کے پاس ہے اس کا پرچم وہاں لہرایا جائے، لیکن اس لیے جھنڈا نہیں لگایا گیا کہ اس سے باسک علیحدگی پسندوں کو شہ ملے گی اور وہ اس جھنڈے کو اتار کر وہاں اپنا جھنڈا نصب کر دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…