منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں دہشتگردی، تعلقات خراب کرنے کیلئے کون سرگرم عمل ہے، افغان سفیر بھی پاکستانی موقف کے حامی نکلے آئی ایس آئی چیف کو کہاں آنے کی دعوت دے دی؟

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پرامن افغانستان ہی پرامن پاکستان کا ضامن ہے، افغانستان میں امن نہیں ہوگا توپاکستان اوروسط ایشیا کےمابین راہداری نہیں ہوسکتی ،پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زخیل وال نے بھی پاک افغان تعلقات میں خرابی کی وجہ سے تیسری قوت کو قرار دیدیا، آئی ایس آئی چیف کو دورہ کابل کی دعوت۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زخیل وال

نے پاکستانی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان تعلقات میں خرابی کا ذمہ دار تیسری قوت ہے۔پرامن افغانستان ہی پرامن پاکستان کا ضامن ہے،کئی مہینوں کی محنت کےبعدتعلقات پھرصفرپرآجاتےہیں۔ پاکستان اورافغانستان کےمابین جلد تعلقات بہتر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تیسری قوتیں دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب کرنے کا موجب ہیں۔ جب بھی کوئی مثبت قدم اٹھایا جاتا ہے تو کچھ غلط ہوجاتا ہے۔ کئی مہینوں کی محنت کےبعد تعلقات پھرصفرپرچلے جاتے ہیں۔ پاک افغان تعلقات کی بہتری جلد ہونی چاہیے اس میں دیرنہیں ہونی چاہیے۔ پاک افغان تعلقات کی خرابی سےسب کو نقصان ہورہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے آج افغان سفارتخانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان سفیر عمر زاخیل وال سے ملاقات بھی کی جبکہ سفارتخانے میں افغانستان میں ہونیوالے حالیہ دہشتگردی واقعات میں جانی و مالی نقصان پر اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔ افغان سفیر نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دورہ کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کیلئے نیک شگون قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کو قریبی دوست دیکھنے کے خواہاں ہیں اور اس حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں۔ عمر زاخیل وال کا کہنا تھا کہ فغانستان کے2سینئر وزراء کو پاکستان لانےمیں کامیاب ہوگیا ہوں۔ انہوں نے اس موقع پر آئی ایس آئی چیف کو دورہ کابل کی دعوت بھی دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…