منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بین الاقوامی پورن مارکیٹ میں کم عمر پاکستانی بچوں کی مانگ میں اضافہ، لڑکیاں بھی یورپ سمگل کی جانے لگیں، یورپ کے اہم ملک میں منڈی سج گئی، پاکستانی سفیر کے ہولناک انکشافات

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

ایتھنز(این این آئی)پنجاب سے کم عمر بچوں کی یورپ اسمگلنگ کے معاملے پر یونان میں مقیم پاکستانی سفیر نے وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا۔خط میں سفیر عثمان قیصر نے پاکستان سے یونان کے لئے انسانی سمگلنگ میں اضافے کا انکشاف کیا اور بتایا کہ دسمبر2017میں یونانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 23 پاکستانی غیرقانونی تارکین وطن ہلاک ہوئے۔انہوںنے کہاکہ ہلاک

ہونے والے پاکستانیوں میں سے 20 کی لاشیں پاکستان روانہ کردی گئی ہیں ٗ3 کی تلاش جاری ہے۔سفارت خانے سے جاری ہونے والے خط میں دفترخارجہ اور وزارت داخلہ کو انتہائی سنجیدہ مسئلے کا فوری نوٹس لینے کا کہا گیا۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل آفس آف مائیگریشن (آئی او ایم)بھی وطن واپس جانے کے خواہشمند تارکین وطن کی مدد سے گریزاں ہے۔پاکستانی سفارت خانے کے خط میں انکشاف کیا گیا کہ بذریعہ یونان یورپ جانے کے لئے منڈی بہاالدین، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے انسانی سمگلنگ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سفیر نے خط میں توجہ دلائی ہے کہ بچوں، کم عمر خواتین، و دیگر افراد کو غیرقانونی طورپر یونان بھجوایا جارہا ہے جس کی روک تھام کے لئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کی جانب سے خاطر اقدامات نہیں اٹھائے جارہیپاکستانی سفیر خالد عثمان قیصر کے مطابق گزشتہ ماہ دسمبر 2017 میں 23 غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہلاک ہونے والے پاکستانیوں میں سے 20 افراد کی لاشیں پاکستان بھجوائی جاچکی ہیں، جب کہ 3 کی تلاش کے لئے یونانی سیکیورٹی حکام اقدامات اٹھارہے ہیں۔پاکستانی سفارت خانے کے مطابق یونان میں بیروزگاری کی شرح 40 فیصد کی حد تک جاپہنچی ہے اور اس

مخدوش معاشی صورتحال میں غیرقانونی پاکستانی تارکین وطن بھی کسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوںنے کہاکہ صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ غیرقانونی کم عمر پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں “سیکس ورکز” جیسے گھنانے دھندے میں مصروف ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن جو پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں انہیں بھی سفری دستاویزات نہ ہونے کے

باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ بین الاقوامی ادارے انٹرنیشل آفس آف مائیگریشن نے بھی ایسے پاکستانیوں کو وطن واپس بھجوانے سے معذرت کرلی ہے جس کے بعد ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…