منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران بدمزگی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ محب اللہ کاکاخیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں زرعی یونیورسٹی ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بدمزگی دیکھنے کو اس وقت ملی جب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ محب اللہ کاکاخیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ شروع ہوا،

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران محب اللہ کاکا خیل نے چیف جسٹس سے کہا کہ عدالت پرائمری سکول بنی ہوئی ہے ، ایڈووکیٹ محب اللہ کاکاخیل کی اس بات پر چیف جسٹس نے غصے سے کہا کہ عدالت کی عزت کرنا سیکھیں، وکیل نے جواب دیا کہ آپ ہماری عزت کریں گے تو ہم آپ کی عزت کریں گے ،جسٹس نے کہا کہ کیا یہ وکالت ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اپنے موکل کے فائدہ کا ہی نہیں پتہ ، وکیل نے کہا کہ میں تو آپ کی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتا، تین سال بعد آپ کی عدالت میں پیش ہوا ہوں ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل آپ کو کتنی مرتبہ ڈانٹا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ پہلے جسٹس رمدے اور جواد ایس خواجہ بھی ایسے کرتے تھے،اب آپ بھی ایسا کر رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ جو بات کہنا چاہتے ہیں بتائیں ہم سن رہے ہیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے گستاخی کرنے والے ایڈووکیٹ میاں محب اللہ کی وکالت کا لائسنس منسوخ کرکے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا اور بعد ازاں لائسنس معطلی کا آرڈر منسوخ کردیا۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران محب اللہ کاکا خیل نے چیف جسٹس سے کہا کہ عدالت پرائمری سکول بنی ہوئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…