منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سرمیں سرجری کروا کر کانوں میں ہیڈ فون اور ناف کے نزدیک سمارٹ کیمرہ ،پاکستان میں اہم ترین پوسٹوں پربھرتی کے ٹیسٹ میں نقل کا حیرت انگیز طریقہ پکڑاگیا،پکڑنے والے بھی سرپکڑ کر بیٹھ گئے

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایف آئی اے کی شہر میں بڑی کارروائی ‘پولیس کانسٹیبلان کی بھرتی کیلئے ہونیوالے این ٹی ایس ٹیسٹ میں کمپیوٹرائزڈ طریقے سے نقل لگانیوالا گروہ پکڑا گیا ،ملزمان نے سرمیں سرجری کروا کر کانوں میں ہیڈ فون اور ناف کے نزدیک سمارٹ کیمرہ لگا رکھا تھا جس سے وہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے پرچہ حل کرتے تھے ،امیدواروں کی بائیو میٹرک تصدیق پر دو ملزمان گرفتار،ایف آئی اے ٹیم معاملہ کی باریک بینی سے تفتیش میں مصروف، مزید ملزمان اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کا امکان،

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پولیس کانسٹیبلان کی بھرتی کیلئے این ٹی ایس ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا، وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد اکرم کی ہدایت پر ایف آئی اے ٹیم نے مدینہ ٹاؤن پولیس پارٹی کے ہمراہ دوران ٹیسٹ پنجاب کالج ،تیزاب مل جڑانوالہ روڈ میں قائم کئے گئے امتحانی مرکز میں ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کی بائیو میٹرک تصدیق کی تو نقل کرنے کا جدید اور کمپیوٹر ائزڈ طریقہ سامنے آگیا،432گ ب جڑانوالہ کے رہائشی غلام مصطفی ولد اللہ دتہ اور 230گ ب ،جڑانوالہ کے رہائشی گل شیر از ولد محمد عظیم کی بائیو میٹرک تصدیق کے دوران انکشاف ہوا کہ دونوں کسی اور امیدوار کی جگہ ٹیسٹ دے رہے ہیں ،مزید تلاشی پر حکام ہکا بکا رہ گئے دونوں امیدواروں نے انتہائی خفیہ طریقے سے سر کے بالوں کے نتیجے سے سرجری کروا کر تار کے ذریعے کانوں میں ہیڈ فون اور ناف کے نیچے خفیہ سمارٹ کیمرہ لگا رکھا تھا جس کے ذریعے یہ باہر بیٹھے اپنے ساتھیوں کی مدد سے پرچہ حل کرتے تھے ،پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر کریسنٹ سکول میں قائم امتحانی مرکز پر بھی چھاپہ مارا لیکن وہاں پر امتحان دینے والے افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ،گرفتار ہونیوالے ملزمان نے انکشا کیاکہ وہ ایم ایس سی ڈگری ہولڈر ہیں اور بیروزگاری کی وجہ سے انہوں نے یہ کام شروع کیا تھا ،پولیس کو پہلے بھی اسی طرح کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ، ملزمان کیخلاف تین یونیورسٹی ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گیے جبکہ مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا جس سے مزیدسنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…