منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

راؤانوار ٗپولیس پارٹی،ذرین داوڑکی گرفتاری کیلئے محکمہ داخلہ کا خط

datetime 28  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ٗان کی پولیس پارٹی اور راؤ انوار کے سر کی قیمت لگانے والے ذرین داوڑ کی گرفتاری کیلئے محکمہ داخلہ سندھ نے چاروں صوبوں ٗاسلام آباد ٗگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر انتظامیہ کو خط لکھ دیا۔راؤانوار اور انکی ٹیم کی گرفتاری کیلئے ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی جبکہ چیف جسٹس نے راؤ انوار کو 3 دن میں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا ٗسابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی گرفتاری

کیلئے محکمہ داخلہ سندھ نے خط لکھ دیا ہے، خط میں راؤ انوار کے سر کی قیمت لگانے والے شخص ذرین داوڑ کی گرفتاری میں بھی مدد مانگی گئی۔خط کے مطابق ذرین داوڑ نامی شخص نے سوشل میڈیا پر راؤ انوار کے قتل پر لوگوں کو اکسایا تھا ٗ ذرین داوڑ پر اس وڈیو کو اپ لوڈ کرنے پر مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔دوسری جانب سابق ایس ایس پی راؤانوار اور ان کی ٹیم کی گرفتاری کیلیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ذوالفقار مہر کی سربراہی میں ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی۔ دیگر اراکین میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر عابد قائمخانی ، ڈی ایس پی ازل نور، انسپکٹر فاروق اعظم اور راجہ مسعود سمیت دیگر شامل ہیں۔نجی ٹی وی نے عدالت میں پیش کی گئی نقیب اللہ قتل کیس، تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ حاصل کرلی ٗ7 حصوں پر مشتمل رپورٹ کاپہلا حصہ جعلی مقابلے کے مقدمے سے متعلق ہے۔پانچویں حصے میں راؤ انوار کی ملک سے فرار کی کوشش کی تفصیلات بھی ہیں ٗچھٹا حصہ کمیٹی کی فائنڈنگز پر مشتمل ہے ۔ساتویں اور آخری حصے میں سفارشات کی گئی ہیں ٗگزشتہ روز سپریم کورٹ رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس کے استفسار نے ملک میں موجود تمام چارٹرڈ طیاروں کے مالکان کو 4 دن میں حلف نامے جمع کرانے کا حکم دیا، پوچھا گیا کہ راؤ انوار اْن کے ذاتی طیارے میں ملک سے فرار تو نہیں ہوئے؟سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا گیا کہ وہ تمام بارڈر انچارجز سے یہ رپورٹ لیں کہ راؤ انوار ان کے بارڈر سے تو فرار نہیں ہوا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…