جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی عسکری امداد روکنے کے بعد ایک اور بڑا قدم امریکہ نے اصلیت دکھا دی، مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی )امریکی سینیٹر رینڈ پال نے سینٹ کو ایک بل پیش کیا ہے۔ جس میں اس نے وفاقی حکومت کو پاکستان کی 2 ارب ڈالر کی امداد روکنے کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر حکومت پاکستان کی امداد کو ختم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹر کی جانب سے پیش کردہ اس بل کی مدد سے امریکن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک ارب 28 کروڑ ڈالر

اور امریکہ کی اسٹیٹ ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقیاتی فنڈز کے 85 کروڑ 20 لاکھ ڈالر امداد کے اعلان کو بھی ختم کرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جب امریکی سینیٹر نے پاکستان کی امداد روکنے کے لیے اپنا منصوبہ متعارف کرایا تھا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو نہ صرف سراہا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں رینڈ پال کو شاباش بھی دی تھی۔پاکستان مخالف جذبات کے حامل سینیٹر رینڈ پال کا کہنا ہے کہ انہیں یہ یقین نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے، اسی بنا پر وہ یہ بل ایوان میں لے کر آئے ہیں۔واضح رہے کہ رینڈ پال کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ جب ہم ایسے ملک کی مدد کرتے ہیں جہاں امریکہ کی موت کے نعرے لگتے ہوں اور ہمارے پرچم جلائے جاتے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے ملک اور ٹیکس دہندگان کی حفاظت کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔خیال رہے کہ رواں ماہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی امداد بھی روک دی گئی تھی جبکہ پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف کاروائی کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…