بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے خواتین میں 3000 موٹر سا ئیکلیں آسان اقساط میں بلاسود تقسیم کرنے کا اعلان کردیا،اٹھارہ سال سے 40سال کی خواتین سکیم کے لیے اہل،تفصیلات جاری

datetime 21  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کو بااختیار اور خود مختار بنانے کے لیے حکومت پنجاب کے ویمن آن ویل پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا آغاز آ ج (پیر )سے کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب اسٹریٹجک ریفارم یونٹ کی طرف سے ، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور بنک آف پنجاب کے تعاون سے شروع کی گئی اس سکیم کے تحت شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے 3000 موٹر سا ئیکلیں آسان اقساط میں بلاسود تقسیم کی جائیں گی۔

موٹر سائیکل تقسیم کرنے کے علاوہ خواتین کوموٹر سا ئیکل چلانے کی مفت تربیت کی سہولت بھی فرام کی جائے گی۔اس سکیم کے پہلے مرحلے میں 3000خواتین کو پنجاب کے مختلف شہروں لاہور ، ملتان ، فیصل آباد، راولپندی اور سرگودھا میں تربیت دینے کا عمل مکمل بھی کیا جا چکا ہے۔ قرعہ اندازی کیلئے درخواستیں 22 جنوری سے 25 فروری تک جمع کی جائیں گی۔درخواستیں بنک آف پنجاب کی شاخوں میں جمع کروائی جا سکیں گی۔قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہونے والوں خوش نصیبوں موٹر سائکل تقسیم کرنے کے بعد ’’ویمن آن ویل ریلی‘‘ کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔اس حوالے سے و زیراعلی پنجاب اسٹریٹجک ریفارم یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل سلیمان صوفی کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین بااختیار بنا کر مردوں کے شانابہ شانہ ہر شعبے میں ان کا نمایاں تعمیری کردار یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے ویژن کے عین مطابق خواتین کومحفوظ ماحول مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل خود مختاری دینے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ سلمان صوفی کا مزید کہنا تھا کہ عمومی طور پر تمام خواتین اور ملازم پیشہ خواتین کو بالخصوص سفر کرنے میں دشورای پیش آتی تھی۔ ویمن آن ویل پراجیکٹ کا مقصد خواتین کو سفر کرنے میں خود انحصاری کی طرف راغب کرنا ہے تا کہ وہ اپنے امور کسی بھی مدد اور کسی کے انتظار کے بغیر سر انجام دے سکیں۔ اس پراجیکٹ کا مقصد نہاں خواتین کو بااختیار کرنا ے وہاں عالمی دنیا کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ پاکستان میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہیں اور ملکی ترقی میں مردوں کے ہم پلہ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ سلمان صوفی نے مزید بتایا کہ ویمن آن ویل پراجیکٹ 2015میں شروع کیا گیا تھا۔ اس پراجیکٹ کو مکمل ریسرچ اور زمینی حقائق کے پیش نظر دور رس نتائج کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…