جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی امداد کے بغیر حکومت کا وجود باقی رہنا نہ ممکن ہے،افغان صدر کا اقرار

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی امداد کے بغیر افغان حکومت کا وجودہ باقی نہیں رہے گا اور افغان نیشنل آرمی کی بنیادیں 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکیں گیں۔افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو افغان صدر اشر ف غنی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اقرار کیا کہ افغانستان کی حکومت مکمل طورپر واشنگٹن کے رحم و کرم پر ہے،مختلف ماہرین

کا نقطہ نظر بالکل ٹھیک ہے، حکومت ابھی اس قابل نہیں کہ اپنی فوج کو امریکی امداد کے بغیر 6 ماہ تک چلا سکیں، اگر امریکا امداد سے ہاتھ کھنیچ لیتا تو ہماری حکومت تیسرے روز ہی گر جائے گی،اشرف غنی نے اقرار کیا کہ پشتون بیلٹ کے بڑے حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے اور کابل حکومت انہیں بے دخل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔افغان صدر نے بتایا کہ افغانستان کو 21 بین الااقوامی دہشت گرد تنظمیوں سے خطرہ ہے اور درجنوں خودکش حملہ آوار افغانستان بھیجے جارہے ہیں۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ‘ادھر خودکش حملہ آور پیدا کرنے کی فیکٹری ہے اور ہم محاذ جنگ میں ہیں، طالبان نے عوام کو اتنا خوفزدہ کردیا ہے کہ وہ حکومت پر یقین کرنیپر آمادہ نہیں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے دوران جب صحافی نے افغان صدر سے سوال کیا کہ ‘اگر آپ اپنے دارالحکومت کو محفوظ نہیں بنا سکتے تو کیسے پورے ملک کو بچا سکتے ہیں’، جس پر انہوں نے کہا کہ ‘آپ مجھے بتائیں کیا نیوریارک پر حملہ روک سکتے ہیں؟ کیا آپ لندن کو حملوں سے بچا سکتے ہیں۔دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جون نیکولسن نے کہا کہ امریکا کی نئی تزویزاتی حکمت عملی کے تحت پاکستان پر ‘تعاون’ کے لیے سخت دباؤ ڈالا جارہا ہے، افغانستان میں امریکا کا 16 واں برس ہے تاہم واشنگٹن طویل جنگ میں یقیناً کامیابی حاصل کریگا،اسی دوران ‘کابل حملے میں اور امریکا کی طویل جنگ ’ نامی رپورٹ

میں انکشاف کیا گیا کہ امریکا نے افغانستان میں جنگی محاذ پر اپنے ڈھائی ہزار فوجیوں سمیت 10 کھرب ڈالر کی خطیر رقم کی قربانی دے چکا ہے لیکن افغانستان کا دارالحکومت تاحال نشانے پر ہے جبکہ جنگ کے اختتام کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔افغان صدر کی طرح جنرل نیکولسن نے اس امر پر امید کا اظہار کیا کہ نئی پالیسی کے تحت وہ جنگ کو اختتامی مرحلے میں دھکیل دیں گے اور اسی پالیسی سے جیت ممکن ہو گی۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ نے 1 ہزار عسکری مشیروں کو افغانستان میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…