ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قصور،معصوم زینب کا قاتل کوئی ایک شخص نہیں،ایک اورسی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی، چونکادینے والے انکشافات

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

قصور(آن لائن) حکومتی دعووں کے باوجد پانچ چار روزکے بعد بھی معصوم زینب کا قاتل پکڑا نہ جا سکا ، زینب کے محلہ سے ہی ایک مشکوک شخص سی سی ٹی وی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ملزم ایک سے زائد ہونے کا شبہ ۔زینب کے واقعہ کے چوتھے روز قصور شہر کے حالات معمو ل پر آگئے تاہم کسی بھی احتجاج اور ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری قصور کے مختلف مقامات پر تعینات اور شہر میں وقفے وقفے سے فلیگ مارچ بھی کیا جاتا رہا جبکہ رینجرز کے دستے بھی اسٹینڈ بائی میں موجود رہے

تاہم قتل کے پانچ روز گزرنے جانے کے بعدبھی ننھی زینب کے قاتل کو گرفتار نہ کیا جا سکا حکومت اور لااینڈ انفسورسمنٹ ایجنسیوں ملزم کی تلاش کرنے میں فی الحال کامیاب نہ ہوئی ہیں ۔صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں زینب کے والد محمد امین انصاری نے کہا کہ ابھی تک جے آئی ٹی ٹیم یا کسی اور ادارے نے ہمیں کچھ نہیں بتایا کہ کیا پیش رفت ہوئی ہے اور اب ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے جس میں ایک مشکو ک شخص زینب کے باہر گھر کی نگرانی کرتے دیکھا جاسکتا ہے اور یہ شخص پہلے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج سے مختلف ہے اس سے شبہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ ملزم ایک سے زائد بھی ہوسکتے ہیں تاہم حتمی بات زینب کے ڈی این اے ٹیسٹ آنے کے بعد سامنے آئیگی جبکہ پانچویں روز بھی سیاستدانوں کا زینب کے گھر آنے کا سلسلہ جاری رہا ،پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹراعتزازا حسن، پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد اور جہاں آرا وٹو ۔ عمران خاں کی سابقہ اہلیہ ریحام خاں ۔مسلم لیگی سینئر رہنما خادم ھسین قصوری ،میاں ابوبکر آف شرقپور۔مذہیے رہنما علامہ ابوالخیری الوری،مرکزی امیر جماعت الحدیث پروفیسر مولانا عتیق العمراور دیگر شامل ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…