جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امارات کے وزیر کی سلطنتِ عثمانیہ کے فوجی کمانڈر فردین پاشا پر تنقید کاجواب،صدراردوغان کاحیرت انگیزاقدام،اپنے آباؤ اجداد کی توہین کابدلہ لے لیا

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی نے سفارتی تنازعے کے بعد دارالحکومت انقرہ میں اس سڑک کا نام علامتی طور پر تبدیل کر دیا جہاں متحدہ عرب امارات کا سفارت خانہ واقع ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے سلطنتِ عثمانیہ کے فوجی کمانڈر فردین پاشا پر تنقید کی تھی اور اب سڑک کو علامتی طور پر اسی کمانڈر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے ایک ٹویٹ شیئر کی

تھی جس میں فردین پاشا اور ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوغان کے آباؤ اجداد پر الزامات عائد کیے تھے۔شیئر کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ 20ویں صدی کے شروع میں فردین پاشا جب مقدس شہر مدینہ کے گورنر تھے تو اس وقت انھوں نے عربوں کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور اس کے ساتھ کہا گیا تھا کہ گورنر کی فورسز کا تعلق ترک صدر رجب طیب اردوغان کے آباؤ اجداد سے تھا۔اس پر صدر اردوغان نے گورنر فردین کا دفاع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے وزیر کے اپنے آباؤ اجداد پر سوالات اٹھائے تھے۔صدر اردوغان نے اماراتی وزیر کو اپنی حیثیت میں رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دعوے بہتان آمیز ہیں اور متحدہ عرب امارات تیل اور دولت کی وجہ سے بگڑ گیا ہے۔اس ٹویٹ کے بعد انقرہ میں متحدہ عرب امارات کے سینیئر سفارت کار کو طلب کر کے شکایت درج کرائی گئی تھی۔خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں جب خلیج میں سفارتی تنازعے پر اس نے قطر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔انقرہ کے میئر نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر سڑک کا نام تبدیل کرنے کی تصدیق کی ہے اور ساتھ میں ترک زبان میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب سے سفارت خانے سے سرکاری طور پر خط و کتابت کے لیے پتا’مدینہ کا محافظ، فردین پاشا روڑ‘ لکھا جائے گا۔ ترکی نے سفارتی تنازعے کے بعد دارالحکومت انقرہ میں اس سڑک کا نام علامتی طور پر تبدیل کر دیا جہاں متحدہ عرب امارات کا سفارت خانہ واقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…