اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات کے وزیر کی ٹویٹ پر تنازع، ترکی نے سڑک کا نام تبدیل کرکے کیا رکھ لیا

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

انقرہ(آن لائن)ترکی نے سفارتی تنازعے کے بعد دارالحکومت انقرہ میں اس سڑک کا نام علامتی طور پر تبدیل کر دیا ہے جہاں متحدہ عرب امارات کا سفارت خانہ واقع ہے۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے سلطنتِ عثمانیہ کے فوجی کمانڈر فردین پاشا پر تنقید کی تھی اور اب سڑک کو علامتی طور پر اسی کمانڈر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے ایک ٹویٹ شیئر کی تھی

جس میں فردین پاشا اور ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوغان کے آباؤ اجداد پر الزامات عائد کیے تھے۔شیئر کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ 20ویں صدی کے شروع میں فردین پاشا جب مقدس شہر مدینہ کے گورنر تھے تو اس وقت انھوں نے عربوں کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور اس کے ساتھ کہا گیا تھا کہ گورنر کی فورسز کا تعلق ترک صدر رجب طیب اردوغان کے آباؤ اجداد سے تھا۔اس پر صدر اردوغان نے

گورنر فردین کا دفاع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے وزیر کے اپنے آباؤ اجداد پر سوالات اٹھائے تھے۔صدر اردوغان نے اماراتی وزیر کو اپنی حیثیت میں رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دعوے بہتان آمیز ہیں اور متحدہ عرب امارات تیل اور دولت کی وجہ سے بگڑ گیا ہے۔اس ٹویٹ کے بعد انقرہ میں متحدہ عرب امارات کے سینیئر سفارت کار کو طلب کر کے شکایت درج کرائی گئی تھی۔خیال رہے کہ دونوں

ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں جب خلیج میں سفارتی تنازعے پر اس نے قطر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔انقرہ کے میئر نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر سڑک کا نام تبدیل کرنے کی تصدیق کی ہے اور ساتھ میں ترک زبان میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب سے سفارت خانے سے سرکاری طور پر خط و کتابت کے لیے پتا’مدینہ کا محافظ، فردین پاشا روڑ‘ لکھا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…