جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان،ن لیگ میں بغاوت،وزیراعلی نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت بچنا مشکل ،عدم اعتماد کا معاملہ پراسرار،پیچھے کون ہے؟سینیٹر میر حاصل بزنجو کے انکشافات

datetime 6  جنوری‬‮  2018 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وفاقی وزیر سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ وزیراعلی نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت بچانا مشکل لگ رہی ہے ،تحریک عدم اعتماد کا معاملہ پر اسرار ہے اس پر خدشات ہیں ،یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کر تے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کے اگر جمعیت علماء اسلام تحریک عدم کی حمایت کر دے توحکومت بچا نا مشکل ہوگانواب ثنا ء اللہ زہری کو حکومت

بچا نی ہے وہ اپنے نمبر پورے کریںیہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے،بلوچستان میں معاملات پر اسرار ہیں یہا ں پر ایک ہی پارٹی ہے جس میں بغاوت ہے بات گاڑیوں اور فنڈز کی جارہی ہے اگر واقع اتنے چھوٹے معاملات تھے تو پھر نوبت عدم اعتماد تک کیسے پہنچی اسکے پیچھے محرکات کیا ہیں سمجھ میں نہیں آرہا ،انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) کے اراکین کو فنڈز نہیں ملے مگر تحریک عدم اعتماد پر سردار اختر مینگل ،جمعیت علما ء اسلام اور دیگر جماعتوں نے دستخط کردئیے اس معاملے میں پر اسرار چیزیں نظر آرہی ہیں ،انہوں نے کہا ہمارا مسلم لیگ(ن) سے اتحاد ہے ہمیں نہ وفاقی حکومت نے رابطہ کیا نہ ہی صوبائی نے ہم نے انکے نامزد وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے،تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں ہیں اور نہ بنیں گے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کا مینگل اور دوسروں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے انتے لوگ کیسے اکھٹے ہورہے ہیں ان سب کا ایک ہوجانا سمجھ میں نہیں آتا ، ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا بھی ایک ایم پی اے ہے وہ سمجھتا ہے میرے کیس ختم ہوجائیں گے اور رہا ہو جاؤں گالیکن ہم پریشان ہیں انہیں رہا کون کررہا ہے اور پکڑا کس نے ہے یہ بال متی کا کنبہٰ کیسے اکھٹا ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے اسلام آباد ایک رائے یہ ہے کہ ایک اسمبلی کو توڑ کر سینیٹ کے انتخا بات روکے جائیں گے پہلے یہ سنا تھا کہ خیبر پختونخواء والے کریں گے مگر بلوچستان سے معا ملہ شروع ہونے سے ہمارے خدشات بڑھے ہیں،انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام کر نے کے لئے وفاقی حکومت نے با قاعدہ ہلجل نہیں کی اب یہ انکی مرضی ہے کہ وہ کس گروپ کو سپورٹ کریں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…