بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

قوم کی تقدیر کو بنانے اور سنوارنے میں علماء کا کلیدی کردار ہے، شہبازشریف

datetime 6  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی)وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف نے کہا کہ قوم کی تقدیر کو بنانے اور سنوارنے میں علماء کا کلیدی کردار ہے، حضور پاکؐ امن کی داعی تھے، انہوں نے مدینہ میں امن دیا، امن کے حوالے سے صلح حدیبیہ سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں اگر علماء کریم کی سیرت کو اجاگر کریں تو پاکستان محبت کا نمونہ بن جائے گا، موجودہ ہیجانی اور انتشار کی کیفیت کے حل کیلئے علماء کرام قرآن اور حدیث کی

روشنی میں مسائل کو سلجھانے میں کردار ادار کرسکتے ہیں۔ہفتہ کو وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی تقدیر کو بنانے اور سنوارنے میں علماء کا کلیدی کردار ہے، مذہبی منافرت نے گزشتہ دہائیوں سے ملک میں تشویش پیداکررکھی ہے، مذہبی منافرت کو ختم کرنے میں علماء کا کردار بنیادی ہے۔ حضور پاکؐ امن کے داعی تھے، انہوں نے مدینہ میں امن دیا، امن کے حوالے سے صلح حدیبیہ سے بڑھ

کر کوئی مثال نہیں، پاکستان میں موجودہ ہیجانی اور انتشار کی کیفیت کے حل کیلئے علماء کرام کردار ادا کرسکتے ہیں، دنیا کا ہر مسلمان ناموس رسالتؐ پر پورا یقین رکھتا ہے، اگر علماء نبی کریمؐ کی سیرت کو اجاگر کریں تو پاکستان محبت کا نمونہ بن جائے گا، پاکستان اسلام کے نام پر مرض وجود میں آیا۔ہمیں غریب اور امیر کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے، علماء قرآن اور حدیث کی روشنی میں مسائل کو سلجھانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…