لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نوازشریف کو سعودی عرب نے نہیں بلایا بلکہ وہ شہباز شریف کے خوف سے گئے ہیں،طاہرالقادری کے ساتھ سیاسی اتحاد نہیں کیا، قیادت نے شہدا سے اظہار یکجہتی کیلئے ملاقات کی۔لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریف برادران کی آپس میں چپقلش چل رہی ہے، شہباز شریف کہتے ہیں کہ مجھے وزیراعظم بنایا جائے
جبکہ ووٹ نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ ہے اور شہباز شریف کے ساتھ نہیں، شہباز ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں کہ کوئی انہیں وزیراعظم بنا دے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سعودی عرب نے نہیں بلایا وہ اگر بلاتے ہیں تو جہاز بھیجتے ہیں، نواز کمرشل فلائٹ سے گئے جبکہ شہباز شریف خصوصی جہاز پر گئے ہیں، انہوں نے کوشش کی ہے کہ یہ تاثر دیا جائے کہ میں سعودی عرب والوں کا منظور نظر ہے، شہباز شریف نے وہاں سے ٹیلی فون کیا کہ میں اعلی شخصیات سے ملاقات کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اب سعودی عرب والے بھی شریف خاندان کے لیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ شریف برادران سعودی عرب میں کیا کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کا مستقبل اچھا دیکھ رہے ہیں، تمام جماعتوں میں انتشار ہے، پیپلزپارٹی میں کوئی انتشارنہیں، پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں اچھا پرفارم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ طاہرالقادری کے ساتھ سیاسی اتحاد نہیں کیا، پارٹی قیادت نے طاہرالقادری کے ساتھ شہدا سے اظہار یکجہتی کے لیے ملاقات کی۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نوازشریف کو سعودی عرب نے نہیں بلایا بلکہ وہ شہباز شریف کے خوف سے گئے ہیں،طاہرالقادری کے ساتھ سیاسی اتحاد نہیں کیا، قیادت نے شہدا سے اظہار یکجہتی کیلئے ملاقات کی۔لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریف برادران کی آپس میں چپقلش چل رہی ہے



















































