ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف کا اصل دشمن کون ہے؟انہوں نے اگرتحریک چلائی توکس چیلنج کا سامناکرنا پڑے گا؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 20  دسمبر‬‮  2017 |

آج سے 25 سو سال پہلے چین میں ایک جرنیل ہوتا تھا سن تزو‘ وہ پوری زندگی جنگیں لڑتا رہا اور جیتتا رہا ‘اس نے زندگی کے آخری حصے میں جنگوں کی تکنیکس پر ایک شاندار کتاب لکھی‘ یہ کتاب ’’دی آرٹ آف وار‘‘ کہلاتی ہے اور یہ جنگی تکنیکس پر لکھی جانے والی آج تک کی تمام کتابوں میں پہلے نمبر پر آتی ہے‘ سن تزو نے کتاب میں جنگ جیتنے کے تین بڑے آرٹس بیان کئے ہیں‘اس کا کہنا تھا آپ لڑے بغیر اپنے دشمن کو شکست دے دیں‘

یہ جنگ کا سپریم آرٹ ہے‘ اس کا کہنا تھا آپ کی جیت اور ہار کا فیصلہ آپ کا دشمن نہیں کرتا آپ خود کرتے ہیں‘ آپ جیتنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوئی ہرا نہیں سکتا اور آپ اگر اندر سے ہارے ہوئے ہیں تو پھر مضبوط سے مضبوط فوج بھی آپ کوجتوا نہیں سکتی اور آخری آرٹ آپ اگر اپنے آپ اور اپنے دشمن سے واقف ہیں تو آپ کو سو جنگوں میں بھی کوئی خطرہ نہیں ہو گا‘ آپ اگر اپنے دشمن سے واقف ہیں لیکن آپ اگر اپنی صلاحیتوں سے آگاہ نہیں ہیں تو پھر آپ ایک جنگ جیتیں گے اور دوسری ہاریں گے اور آپ اگر اپنے دشمن سے بھی ناواقف ہیں اور آپ اگر اپنے آپ کو بھی نہیں جانتے تو پھر آپ کبھی کوئی جنگ نہیں جیت سکتے‘ میاں نواز شریف اس آخری صورتحال کا شکار ہیں‘ یہ اپنے آپ یعنی اپنی پارٹی کی صلاحیتوں اور اخلاص سے بھی واقف نہیں ہیں اور یہ اپنے اصل دشمن سے بھی آگاہ نہیں ہیں چنانچہ یہ گومگو کی صورتحال میں اپنا وقت اور انرجی دونوں ضائع کر رہے ہیں‘میاں نواز شریف اگر یہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو پھر پہلے انہیں اپنے اصل دشمن کا تعین کرنا ہوگا‘ پھر اپنی صلاحیتوں اور وسائل کا اندازہ کرنا ہوگا اوراس کے بعد میدان میں اترنا ہوگا ورنہ یہ سن تزو کے مطابق یہ جنگ بھی ہار جائیں گے۔ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں ، میاں نواز شریف اگر تحریک چلاتے ہیں تو انہیں علامہ طاہر القادری اور عمران خان کے چیلنج کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور یہ اگر اتنے بڑے اعلان کے بعد تحریک نہیں چلاتے تو انہیں بہت بڑا ’’سیٹ بیک‘‘ ہو گا‘ نواز شریف کے پاس کیا آپشن ہے؟ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…