منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

اعلی عدلیہ سے گاڈ فادر جیسی آوازیں کسی جائیں گی تو کیا جواب نہیں آئے گا؟عاصمہ جہانگیر نے کھری کھری سنادیں

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ہر کوئی اپنا اپنا کام کرے گا تو ملک چلے گا، مناسب نہیں کہ جج شفافیت کے دلائل دیں جبکہ عدلیہ کو وضاحتیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔لاہورمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں، تو بھی لوگ تنقید کرتے ہیں اور اگر اعلی عدلیہ سے گاڈ فادر جیسی آوازیں کسی جائیں گی تو کیا جواب نہیں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مناسب نہیں کہ

ماتحت عدلیہ کرپٹ ہے، اعلی عدلیہ زیادتی کرے گی تو سائل کہاں جائیں گے، صرف تقریروں سے کام نہیں چلے گا۔مناسب نہیں کہ جج شفافیت کے دلائل دیں، عدلیہ کو وضاحتیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ کہنا چاہئے تھا قانون کی بالادستی اور جمہوریت ساتھ ساتھ چلتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عزت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، کرائی نہیں جاتی، یہ کہنا کہ پارلیمنٹ اپنا کام نہیں کرے گی توعدلیہ کرے گی، وہی دلیل ہے جو جرنیل کہتے ہیں کہ سویلین اپنا کام صحیح نہیں کر رہے تو ہمیں آنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…