جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اعلی عدلیہ سے گاڈ فادر جیسی آوازیں کسی جائیں گی تو کیا جواب نہیں آئے گا؟عاصمہ جہانگیر نے کھری کھری سنادیں

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ہر کوئی اپنا اپنا کام کرے گا تو ملک چلے گا، مناسب نہیں کہ جج شفافیت کے دلائل دیں جبکہ عدلیہ کو وضاحتیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔لاہورمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں، تو بھی لوگ تنقید کرتے ہیں اور اگر اعلی عدلیہ سے گاڈ فادر جیسی آوازیں کسی جائیں گی تو کیا جواب نہیں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مناسب نہیں کہ

ماتحت عدلیہ کرپٹ ہے، اعلی عدلیہ زیادتی کرے گی تو سائل کہاں جائیں گے، صرف تقریروں سے کام نہیں چلے گا۔مناسب نہیں کہ جج شفافیت کے دلائل دیں، عدلیہ کو وضاحتیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ کہنا چاہئے تھا قانون کی بالادستی اور جمہوریت ساتھ ساتھ چلتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عزت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، کرائی نہیں جاتی، یہ کہنا کہ پارلیمنٹ اپنا کام نہیں کرے گی توعدلیہ کرے گی، وہی دلیل ہے جو جرنیل کہتے ہیں کہ سویلین اپنا کام صحیح نہیں کر رہے تو ہمیں آنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…