اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

جہانگیر ترین اور عمران خان نا اہلی کیس کے بعد چیف جسٹس پہلی بار منظر عام پر آگئے، ایسا دبنگ بیان دے ڈالا کہ پورا ملک ہل کر رہ گیا، سیاستدان ، وکلا اور ٹی وی اینکرز ہکا بکا رہ گئے

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اٹھارویں ترمیم کے فیصلے میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کیا، عدلیہ ہمارا بابا ہے ، کسی شخص کے خَلاف فیصلہ آجائے تو اسے اپنے اس بابے کو گالیاں نہیں دینی چاہئے، ، عدلیہ کا وقار مجروح نہیں ہونے دینگے، ہم پر دبائو ڈال کر فیصلہ کروانے والا ابھی کوئی پیدا نہیں ہوا، انصاف پر مبنی فیصلے کرینگے جس کا انعام اللہ سے ملنا ہے ، ان لوگوں کیلئے اتنا بڑا انعام نہیں

چھوڑ سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا پاکستان بار کونسل کی تقریب سے خطاب، عدلیہ مخالف بیانات ، تقریروں پر سیاستدانوں اور وکلا کو جھاڑ پلا دی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے فیصلے میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا، عدلیہ ہمارا بابا ہے ، کسی شخص کے خَلاف فیصلہ آجائے تو اسے اپنے اس بابے کو گالیاں نہیں دینی چاہئے، ، عدلیہ کا وقار مجروح نہیں ہونے دینگے، لیڈی جج کے چیمبر میں گالم گلوچ کرنا کونسا شیوہ ہے؟ گاؤں میں جب لوگوں میں جھگڑا ہوتا ہے تووہ بابا رحمت سے فیصلہ کراتے ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ دے اسے تسلیم کیا جاتا ہے، کوئی بھی شخص بابے رحمت کے وقار کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ اسی طرح عدلیہ بھی ہمارا بابا ہے، جب آپ کے خلاف کوئی فیصلہ ہوجائے تو اسے گالیاں مت نکالیے اور یہ نہ کہیے کہ یہ بابا کسی پلان کا حصہ بن گیا ہے پوری ایمانداری سے فیصلے کرتے ہیں ، یہ پلانز کہاں سے آگئے، یہ دباؤ کہاں سے آگئے ، یہ کس نے ہمیں آکر کہا کہ اس طرح سے فیصلہ کرو، ایسا کہنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ چیف جسٹس سے بڑا کوئی عہدہ نہیں مل سکتا اب کوئی انعام ملے گا تووہ اللہ کے حضور سے ملے گا اور وہ اسی صورت ملے گا جب ہم انصاف پر مبنی فیصلے کریں گے اور یہی سب سے بڑا انعام ہوگا،

کیا ہم اتنا بڑا انعام ان لوگوں کیلئے چھوڑنے کیلئے تیار ہوجائیں گے؟ریاست کے جتنے بھی اعضا ہیں وہ جمہوریت سے وابستہ ہیں، یقین دلاتا ہوں کہ میں نے قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ ہم اپنے آئین کا تحفظ کریں گے اور جمہوریت کا آئین سب سے بہترین ہے اس کا وقار مجروح نہیں ہونے دیں گے، میں اپنے بیٹے کو اس شرمندگی کے ساتھ نہیں چھوڑ کر جاؤں گا کہ ہم نے جمہوریت کا تحفظ نہیں کیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مبصرین ، تبصرہ کرنے والے لوگ جنہوں نے فیصلہ نہیں پڑھا ہوتا وہ ایسی کہانی پیش کردیتے ہیں کہ ہم سنتے ہیں تو ہمیں بھی حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے تو ایسا نہیں کہا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک معیار سیٹ کیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ ایک مہینے سے زیادہ کوئی بھی فیصلہ محفوظ نہیں رکھے گی ،

اسی معیار کے تحت عمران خان ، جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا فیصلہ سنایا ، نہیں پتا تھا کہ جمعہ کو ہی حدیبیہ کا بھی فیصلہ آرہا ہے۔آپ کو خوش ہونا چاہیے اور عدلیہ پر فخر ہونا چاہیے کہ وہ جلد کیسز نمٹا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…