منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

افغانستان میں دنیا کی 90 فیصد افیون کاشت کی جاتی ہے، پاکستان میں کتنے فیصد افیون سمگل کی جاتی ہے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اینٹی نار کوٹکس فورس نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں دنیا کی90فیصد افیون کاشت کی جاتی ہے جس میں سے 42فیصد پاکستان اسمگل ہوتی ہے، امسال افغانستان میں افیون کی بہت زیادہ کاشت ہوئی جس کے اثرات آئندہ برس پاکستان آنا شروع ہو جائیں گے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل اے این ایف سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اے این ایف نے رواں برس 600ارب روپے کی منشیات جلائی جبکہ صرف صوبہ بلوچستان میں330کلو ہیروئین پکڑی گئی جو افغانستان سے اسمگل کی جارہی تھی۔سینیٹر سعود مجید نے سوال کیا کہ پاکستان اربوں روپے کی منشیات کیوں جلا دیتا ہے جبکہ یہ منشیات عالمی منڈی میں فروخت کرکے پیسہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اور ہالینڈ جیسے ممالک میں منشیات استعمال کرنے کی اجازت ہے اور پاکستان ان ممالک کو منشیات برآمد کرسکتا ہے لہٰذاقبضے میں لی گئی منشیات کو جلانے کے بجائے اس برآمد کیا جائے۔اے این ایف نے بریفنگ کے دوران کمیٹی ممبران کو تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ افغانستان میں رواں سال افیون کی بمپر کاشت ہوئی اور پڑوسی ملک میں رواں برس ساڑھے 3لاکھ ایکڑ رقبے پر افیون کاشت کی گئی۔اے این ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ افغانستان میں دنیا کی90فیصد افیون کاشت کی جاتی ہے جبکہ افغانستان کی42فیصد افیون پاکستان اسمگل ہوتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس سال کی فصل کے اثرات اگلے سال پاکستان آنا شروع ہوجائیں گے۔بریفنگ کے دوران ڈی جی اے این ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ2013ء کے سروے کے مطابق 67 لاکھ پاکستانی منشیات کا استعمال کرتے ہیں

جبکہ افغانستان کی افیون پاکستان اسمگل ہوتی ہے۔ڈی جی اے این ایف نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے کل ملازمین تعداد 2600 کے قریب ہے جو 11ایئرپورٹس کو کنٹرول کر رہے ہیں اور تمام سرحدی چیک پوسٹس پر بھی تعینات ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے صدر سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کھلے عام دستیاب ہیں جبکہ سینیٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں منشیات کھلے عام استعمال ہورہی ہے۔سیکرٹری اینٹی نارکوٹکس فورس کا کہنا تھا صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ نے صوبائی سطح پر نارکوٹکس کنٹرول اتھارٹیز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی سطح پر ایسی اتھارٹیز قائم کی گئیں تو مسائل پیدا ہوں گے جبکہ عالمی ادارے بھی صوبوں سے رابطہ کرنے کے بجائے وفاق سے رابطہ کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اینٹی نارکوٹکس کا دائرہ کار پورے ملک میں ہونا چاہیے اور اسے براہ راست چھاپے مارنے کا اختیار دیا جائے۔سیکرٹری اے این ایف نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو سمری ارصال کردی گئی ہے تاہم امید ہے کہ یہ سمری جلد منظور ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…