روم(سی پی پی)قدیم دور کا یہ تاریخی شہر بیائی 1700 سال قبل آتش فشاں پھٹنے کے بعد 400 میٹر زمین کے نیچے دب گیا تھا جسے اب ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کر لیا ہے اور اس کے متعلق ایسے انکشافات کئے ہیں کہ ہر سننے والا خدا کے قہر سے ڈرے گا،ذرائع کے مطابق یہ شہر اٹلی کے مغربی ساحل پر موجود تھا اور ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم روم میں عیش و عشرت اور بدکاری کا گڑھ تھا،ماہرین کے مطابق 1700سال قبل اس علاقے میں موجود آتش فشاں پھٹا اور زمین 400میٹر دھنس گئی جس سے سمندر کا پانی آگے بڑھا اور اس شہر
سمیت دھنسنے والے پورے علاقے کو اپنے اندر غرق کر دیا،غوطہ خوروں کی ایک ٹیم خلیج آف نیپلز میں سمندر کی تہہ میں موجود اس شہر تک گئی ہے اور وہاں سے کچھ تصاویر اور ویڈیوز بنا کر لائی ہے، ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہر میں لگے متعدد مجسمے آج بھی صحیح سلامت موجود ہیں جن میں ایک برہنہ خاتون کا مجسمہ بھی شامل ہے،تصاویر بنانے والی ٹیم کے رکن انٹونیوبسیلو کا کہنا تھا کہ اس شہر کی سڑکیں، دیواریں، پچی کاری سے مزین عالیشان عمارتوں کے فرش اور دیگر چیزیں آج بھی حیران کن طور پر بہترین حالت میں موجود ہیں۔



















































