بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف کے بعد اب شہبازشریف کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے؟پیر صاحب سیال شریف کس حد تک جائیں گے؟ جاوید چودھری کے انکشافات

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

خواتین وحضرات ۔۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کے وکیل ہوتے ہیں‘ ہم اپنی غلطی کو جسٹی فائی کرنے کیلئے جھوٹے سچے سینکڑوں دلائل دے دیں گے ۔۔لیکن جب ہمارے سامنے کسی دوسرے کی غلطی آتی ہے تو ہم فوراً جج بن جاتے ہیں‘ ہم (اس) پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں‘ میاں نواز شریف بھی آج کل یہی کر رہے ہیں ہم اگر میاں صاحب کے دلائل مان لیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے جب میاں نواز شریف کی مدد سے یوسف رضا گیلانی‘ دوبار محترمہ بے نظیر بھٹو‘

غلام مصطفیٰ جتوئی اور محمد خان جونیجو کو ہٹایا گیا تھا تو کیا (اس) وقت ملک کا ستیا ناس نہیں ہوا تھا‘ کیا (اس) وقت غیر یقینی صورتحال اور انتشار پیدا نہیں ہوا تھا اور کیا (اس) وقت (ملک) نہیں ۔۔ہلا تھا‘ اگر ماضی میں منتخب وزراء اعظم فارغ ہوتے رہے ہیں تو ۔۔اس کارخیر میں میاں نواز شریف کا حصہ بھی ہوتا تھا ‘ جب تک میاں صاحب یہ کام خود کرتے رہے یہ کام (اس) وقت تک عین عبادت تھا‘ یہ ملک کی خدمت تھا ۔۔لیکن جب میاں صاحب خود فارغ ہوئے تو یہ کام ستیا ناس بھی ہو گیا‘ اور ۔۔اس سے ملک بھی ۔۔ہل گیا‘کیوں؟ ہم اگر ملک کو بدلنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی غلطیوں کی وکالت اور دوسروں کی غلطیوں کا جج بننے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا ورنہ ستیاناس کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، میاں نواز شریف کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی گھیرے میں آتے ہوئے نظر آ رہے ہیں‘ ایک طرف علامہ طاہر القادری میاں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں‘ یہ اپنے کنٹینر کو ایک بار پھر پالش کر رہے ہیں اور دوسری طرف پیر صاحب سیال شریف نے حکومت سے علیحدگی‘ 10 دسمبر کو فیصل آباد میں جلسے‘ 14 ایم پی ایز کے استعفے اور رانا ثناء اللہ کے استعفے تک بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا‘ کیا میاں نواز شریف کے بعد میاں شہباز شریف کی باری ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…