ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

بریسٹ کینسر کی تشخیصی ٹیسٹ میں کمی کامقابلہ

datetime 22  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ٹیکنالوجی کی دنیا کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے جس کی مدد سے بریسٹ کینسر اور اووریز کے کینسر کی تشخیص تھوک سے کی جاسکے گی۔ سکریننگ کے جھنجھٹ سے جان چھوٹنے اور ٹیسٹ کی کم لاگت کے سبب امید ہے کہ اب خواتین کیلئے اس موذی مرض سے بچنا اور بھی آسان ہوگا نیز پہلے کی نسبت زیادہ خواتین اس ٹیسٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔ اس ٹیسٹ کی دریافت کو بریسٹ کینسر کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی تصور کیا جارہا ہے تاہم اس سے بھی بڑی تبدیلی یہ ہے کہ امریکہ میں چوٹی کی لیبارٹریز میں ان دنوں بریسٹ کینسر کی تشخیص کیلئے سستے ترین ٹیسٹس کا مقابلہ سا شروع ہوا ہے۔
دراصل امریکہ کی دو اہم ترین لیبارٹریز نے فرانسیسی ماہرین کے تعاون سے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بریسٹ کینسرکا باعث بننے والے دو اہم ترین جینز پر تحقیق کی جائے گی۔ اس سلسلے میں دونوں لیبارٹریز نے خواتین کو پیشکش کی ہے کہ وہ ان کی لیبارٹری سے انتہائی کم قیمت میں کینسر کی تشخیص کروائیں۔ لیبارٹریز اڑھائی سو ڈالر کے خرچے میں متعدد ٹیسٹس کی پیشکش کررہی ہیں جبکہ مجموعی طور پر ان کیمائی جانچوں پر آنے والا خرچہ مذکورہ رقم کا دس گنا کے قریب ہوتا ہے۔ اس کمپنی کی جانب سے انتہائی کم قیمت پر ٹیسٹ کی پیشکش کرنے کا مقصد تو صاف واضح ہے کہ اسے اپنی تحقیق کیلئے بریسٹ کینسر کے مریضوں کی ضرورت ہے اوراس طرح کی پیشکش کی صورت میں مریض خود چل کے ان تک آئیں گے تاہم ان دونوں لیبارٹریز کی جانب سے یہ پیشکش سامنے آنے پر امریکہ بھر کی لیبارٹریز نے خود کو لاحق خطرے کی گھنٹی کو سن لیا ہے اور اب تقریباً ہر بڑی لیبارٹری ایسے ہی ٹیسٹ کم قیمت میں پیش کر رہی ہے۔ ایک اور لیبارٹری نے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے ٹیسٹ کی بکنگ کروانے کی پیشکش کی ہے۔ مذکورہ کمپنی بھی انتہائی کم قیمت میں یہ ٹیسٹ کی آفر کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…