جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں ممبئی حملوں کے 8 ملزمان کے وکیل صفائی کااہم اعلان، برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں سب کچھ بتادیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ممبئی ( آن لائن )پاکستان میں ممبئی حملوں کے آٹھ ملزمان کے وکیل صفائی رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ ’یہ مقدمہ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ انڈیا کے 24 گواہوں کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے پاکستان بلایا جارہا ہے جس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی‘۔ممبئی حملوں کو نو سال پورے ہونے کے موقع پر برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ اب تک اس مقدمے میں 72 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے

جاچکے ہیں۔ اس کی ان کیمرہ سماعت ہر ہفتے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جاری ہے اور توقع ہے کہ مقدمے کا فیصلہ جلد ہو جائے گا۔ممبئی حملوں کے مقدمے کی سماعت 2009 میں شروع ہوئی تھی۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی فضا اور کشیدہ تعلقات کے باعث یہ کئی برس التوا کا شکار رہا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس مقدمے کی کارروائی بظاہر سست روی کا شکار کیوں ہے؟ وکیل صفائی رضوان عباسی کا کہا تھا کہ ابتدا میں انڈین حکام کے عدم تعاون کی وجہ سے بہت وقت ضائع ہوا۔مارچ 2012 اور پھر اکتوبر 2013 میں پاکستان کے وفود نے انڈیا کا دورہ کیا تا کہ وہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرسکیں۔ پہلا دورہ تو بالکل ناکام رہا اور دوسرے دورے میں وکلائے صفائی کو گواہوں سے جرح کی اجازت نہیں دی گئی۔ رضوان عباسی کا کہنا ہے ’یہ ثبوت الزامات پر مبنی ہیں اور ان دستاویزات پر جن کی قانون اور عدالت کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں۔ باقاعدہ ٹھوس ثبوت جن کو کہ عدالت ریکارڈ کا حصہ بنائے وہ اس میں شامل نہیں‘رضوان عباسی نے کہا کہ ’انڈیا کے حکام کو دفتر خارجہ کی جانب سے کئی خط لکھے جاچکے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے فوکل پرسن بھی مقرر کررکھا ہے۔ لیکن ابھی تک انڈیا نے کوئی جواب نہیں دیا‘۔کیا مقدمہ اپنے انجام کو پہنچے گا؟رضوان عباسی کا کہنا ہے ’عدالت کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ اگر کئی مواقع دینے کے بعد بھی گواہ پیش نہیں ہوتے تو بھی عدالت فیصلہ کرسکتی ہے‘۔استغاثہ کے وکیل اکرم قریشی کا کہنا تھا کہ ’اس سے مقدمے میں کمی تو رہے گی۔ لیکن اس کی ذمہ داری انڈیا پر ہوگی‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…