بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

سرجن کی مہارت سے ماں کی ممتا بھی دھوکا کھا گئی

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

سیو ل(آن لائن)جنوبی کوریا کے سرجنز نے ایک تھائی نوجوان کے چہرے کی اس مہارت سے سرجری کی کہ ماں کی ممتا بھی دھوکا کھا گئی اور بیٹے کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا۔ تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان نوپا جیت مونلن نے جنوبی کوریا کے ایک مقبول ترین ٹی وی پروگرام کے لیے اپنے چہرے کی سرجری کرائی تھی۔تھائی نوجوان کو اس کے چہرے پر گڑھوں، رنگت، جبڑوں میں بگاڑ اور چہرے کے تاثرات کی وجہ

سے ہمیشہ برا بھلا کہا جاتا جب کہ نوپا جیت مونلن جس حد تک ممکن ہوتا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی باتوں نظر انداز کردیتا۔نوپا جیت مونلن مذاق اڑائے جانے کے خوف سے اکیلے کھانا کھاتا اور صرف اپنے کام سے کام رکھتا۔جب جوپا جیت مونلن کو جنوبی کورین ٹی وی کے مقبول پروگرام ’لٹ می ان‘ کے تھائی ایڈیشن کے لیے منتخب کیا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر چہرے کی سرجری کی جاتی ہے، تو اسے لگا کہ اس کے پاس اپنی زندگی کو بدلنے کا بہترین موقع مل گیا ہے۔اپنے چہرے کی سرجری کے لئے مونلن جنوبی کوریا گیا جہاں اس کے چہرے کو بدلنے کے لیے متعدد آپریشن کیے گئے۔ ’لٹ می ان تھائی لینڈ‘ نے مونلن کے جبڑوں، ماتھے اور پلکوں کی سرجری کے ساتھ اس کے چہرے کی رنگت نکھارنے کے لیے تمام رقم ادا کی۔اور تین مہینے بعد مونلن حیران کن طور پر ایک بالکل ہی مختلف نوجوان معلوم ہو رہا تھا، تھائی نوجوان کی شکل اس قدر تبدیل ہو چکی تھی کہ اس کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کو پہچاننے سے انکار کردیا۔’لٹ می ان تھائی لینڈ‘ کے پریمیئر کے تیسرے سیزن میں نوپاجیت مونلن کو اپنی والدہ کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے جیسے وہ اس کے آنے کا انتظار کر رہی ہو۔جب نوپاجیت مونلن نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو کچھ یاد ہے؟

میری طرف دیکھیں تو اس کی والدہ نے جواب دیا کہ میں اپنے بیٹے کو بہت یاد کر رہی ہوں اور مجھے ایسا لگا کہ میرا بیٹا اٹھے گا اور میرے سامنے چلنا شروع کر دے گا۔نوپاجیت کی ماں کو جب اپنے بیٹے کی باتوں پر یقین نہ آتا تو پھر اس کی تسلی کے لیے جنوبی کوریا میں ہونے والی سرجری پلاسٹک سرجری کی ویڈیو دکھائی گئیں۔نوپاجیت کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ مجھے پسند نہیں کرتے تھے لیکن اب میں خود کوبہت بہتر محسوس کر رہا ہوں اور میرے بہت سے دوست بھی بن گئے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ میں پہلے سے بہت مختلف ہو گیا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…