جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پاکستان افغانستان سرحدی علاقوں میں ایک ہی وقت انسداد پولیو مہم چلانے کی تجویز

datetime 20  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کے آر پار اگر دونوں حکومتوں کی طرف سے ایک ہی وقت میں انسداد پولیو مہم چلائی جائے تو اس سے اس وائرس کے خاتمے کے لیے کوششوں کو تقویت ملے گی۔پاکستان کے انسداد پولیو سیل کی سربراہ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آباد ہزاروں افراد ایک سے دوسرے ملک سفر کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر اوقات ا±ن کے بچے پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔تاہم ا±نھوں نے تجویز دی کہ اگر دونوں ملک ایک ساتھ اپنے سرحدی علاقوں میں انسداد پولیو مہم شروع کریں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔”یہ بہت اہم ہے کہ جب ہم سرحدی علاقوں میں انسداد پولیو مہم شروع کرتے ہیں تو اسی وقت دوسری طرف افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی ایسی مہم شروع کی جائے کیونکہ سرحد کے آرپار روزانہ اتنی بڑی تعداد میں آمدورفت ہوتی ہے کہ ایک ساتھ مہم چلا کر ہم پاک افغان سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔“اس سلسلے میں افغان حکام سے مشاورت کے لیے عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں دو رکنی پاکستانی وفدنے افغان حکام سے بات چیت کے لیے کابل جانا تھا لیکن بعض انتظامی وجوہات کی بنا پر یہ دورہ موخر کر دیا گیا۔عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ دونوں ملک آپس میں تعاون اور معلومات کے تبادلے سے انسداد پولیو کی موثر مہم چلا سکتے ہیں۔ ”اگر بلوچستان میں ہم اپنی طرف پولیو مہم چلاتے ہیں اور سرحد کے اس پار (افغانستان کے حکام) اسی طرح کی مہم چلایئں اور ہم سے معلومات کا تبادلہ کریں تو اس سے ہم پولیو کے خاتمے اور پولیو وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے بہتر کام کر سکتے ہیں۔“عائشہ کا کہنا تھا پاکستان ملک کے اندر پولیو کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان سے پولیو وائرس کسی اور ملک میں منتقل نا ہو۔ا±ن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسداد پولیو کی حالیہ ملک گیر مہمات کی وجہ سے اس سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد گزشتہ سال کے پہلے چار ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز سے کم ہے۔”ہم ہر کوشش کر رہے ہیں اور کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتے، گزشتہ سال اس عرصے میں پولیو کیسز کی تعداد 56 تھی جبکہ اس سال اب تک یہ تعداد 21 ہے جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ سال اس دوران پولیو کیسز کی تعداد 46 تھی جو اس سال صرف 13 ہے یوں یقیناً بہتری ہو رہی ہے۔“پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث انسداد پولیو مہم متاثر ہوتی رہی ہے اور اس کی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد تک انسداد پولیو کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پورے ملک بشمول قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال میں قدرے بہتری کے بعد اب وہاں کے رہنے والے زیادہ تر بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…