جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک اور ٹویٹر پر متنازعہ پوسٹ اور ویڈیوز پاکستان میں کونسا ادارہ کس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سوشل میڈیا پر ملک دشمن سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے، جانئے

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مشکوک فیس بک اکائونٹ اور سوشل میڈیا کی نگرانی کیلئے حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے لیا، فرقہ واریت، دہشتگردی نیٹ ورک سے جڑے سوشل میڈیا اکائونٹ کی نگرانی کیلئے جدید سافٹ وئیر کا استعمال۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر گزرتے منٹ میں 11فیس بک یوزر یا سوشل میڈیا اکائونٹ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

سوشل میڈیا کو مانیٹر کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے اور فرقہ واریت، دہشتگردی اور اسے غیر قانونی طور پر استعمال کرنے والوں کے خلاف ایک سینٹر کا قیام عمل میں لایا ہے۔ اس سینٹر میں فیس بک اور سوشل میڈیا کے کونسے اکائونٹ اور شیئر کی گئی کونسی ویڈیو پر چیک لگایا جاتا ہےاس بات کا انکشاف نجی ٹی وی دنیا نیوز کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے والے سینٹر کا نام ایم ایم سی (میڈیا مانیٹرنگ سینٹر)ہے جو کہ سیف سٹی پراجیکٹ 2015کے آرڈیننس کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اس سینٹر میں میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا دونوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خاص کر اس سینٹر میں نظر رکھی جاتی ہے جس میں فرقہ واریت، دہشتگردی کے حوالے سے اکائونٹس کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ یہ مانیٹرنگ ایک سافٹ وئیر کے ذریعے کی جاتی ہے جس میں ’’کی ورڈ‘‘ڈالے گئے ہوتے ہیںاور جیسے ہی کسی سائٹ یا پیج پر ان الفاظ کا استعمال ہوتا ہے ، مانیٹرنگ ڈیسک کی سکرین پر وہ سائٹ یا پیج نمودار ہو کر ریڈ کاشن دینے لگتا ہے اور وہ پوسٹ اور ویڈیو کلپس سامنے آجاتا ہے جو فرقہ واریت اور دہشتگردی کیلئے پوسٹ کیا گیا ہوتا ہے ۔ فیس بک اور ٹویٹر اکائونٹس کی خاص نگرانی کی جاتی ہے۔ متنازعہ اور مشکوک پوسٹ کے حامل

اکائونٹس کی تفصیلات مانیٹرنگ ڈیسک مختلف اداروں جن میں سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور ایف آئی اے شامل ہیںکو بھیج دیتا ہے جن پر پھر کارروائی کی جاتی ہے اور ایسے پیجز اور اکائونٹس بلاک کر دئیے جاتے ہیں اور ان کے خلاف پھر کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ ایم ایم سی کے حکام نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی پوسٹ اور ویڈیوز میں ایسے مواد کو شیئر کرنے

سے گریز کریں جو فساد فی الارض ، فرقہ واریت اور دہشتگردی کو تقویت دیتا ہے کیونکہ یہ ایک سنگین جرم ہے جس کی نہایت کڑی سزا رکھی گئی ہے۔ ایم ایم سی نے ابھی تک فیس بک اور ٹویٹر پر 150کے قریب پیجز اور اکائونٹس بلاک کئے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…