پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں جنرل راحیل شریف کیساتھ مگر۔۔ حامد میر نے جنرل باجوہ کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کیا کہہ دیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جنرل راحیل شریف کے دور میں تاثر یہ تھا کہ فوج سویلین حکومت پر دبائو ڈالتی ہے اور سیاست میں مداخلت کرتی ہےاس تاثر کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے بڑی حد تک زائل کیا ہے، ان کا دورہ افغانستان اور ایران اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سویلین حکومت کے ساتھ مل کر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، حامد میر کی

نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا جو کردار ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے سویلین حکومت کو بائی پاس کر کے کوئی اپنی پالیسی نہیں چلائی۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ، ڈیفنس کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کے تحت کر رہے ہیں۔نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں وزیر اعظم بھی شامل ہیں اور اس کمیٹی کے اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں جنرل راحیل شریف کےساتھ مگر ان کا ذکر آجاتا ہے، جنرل راحیل شریف کے مقابلے میں جنرل قمر جاوید باجوہ سویلین حکومت اور اس کے فیصلے کو زیادہ اچھے طریقے سے لے کر چل رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں یہ تاثر تھا کہ فوج سویلین حکومت پر دبائو ڈالتی ہے اور سیاست میں مداخلت کرتی ہے اس تاثر کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے بڑی حد تک زائل کیا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے دورمیں ایران کے صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر فوج کی جانب سے ایک ٹویٹ سامنے آیا جس سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں تنائو آگیا تھا جبکہ اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران کے دوران دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غیر روایتی طریقہ اپناتے ہوئے ایرانی

قیادت سے طویل ملاقاتیں کیں اور ان سے کئی امور پر کھل کر بات کی ، وہ وہاں کئی دن رہے جس سے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے دوران سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی ان کے ساتھ تھی ۔پاکستان کا بنیادی مقصد ایران اور افغانستان میں بھارت کا اثرو رسوخ کم کرنا ہےجس کیلئے آرمی چیف کی کوششیں

قابل ستائش ہیں، پاکستان کے ایران اور افغانستان لے ساتھ جو تعلقات ہیں اور اس میں جنرل باجوہ کی قیادت میں بطور ادارہ فوج اس خطے میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…