ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں جنرل راحیل شریف کیساتھ مگر۔۔ حامد میر نے جنرل باجوہ کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کیا کہہ دیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جنرل راحیل شریف کے دور میں تاثر یہ تھا کہ فوج سویلین حکومت پر دبائو ڈالتی ہے اور سیاست میں مداخلت کرتی ہےاس تاثر کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے بڑی حد تک زائل کیا ہے، ان کا دورہ افغانستان اور ایران اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سویلین حکومت کے ساتھ مل کر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، حامد میر کی

نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا جو کردار ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے سویلین حکومت کو بائی پاس کر کے کوئی اپنی پالیسی نہیں چلائی۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ، ڈیفنس کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کے تحت کر رہے ہیں۔نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں وزیر اعظم بھی شامل ہیں اور اس کمیٹی کے اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں جنرل راحیل شریف کےساتھ مگر ان کا ذکر آجاتا ہے، جنرل راحیل شریف کے مقابلے میں جنرل قمر جاوید باجوہ سویلین حکومت اور اس کے فیصلے کو زیادہ اچھے طریقے سے لے کر چل رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں یہ تاثر تھا کہ فوج سویلین حکومت پر دبائو ڈالتی ہے اور سیاست میں مداخلت کرتی ہے اس تاثر کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے بڑی حد تک زائل کیا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے دورمیں ایران کے صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر فوج کی جانب سے ایک ٹویٹ سامنے آیا جس سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں تنائو آگیا تھا جبکہ اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران کے دوران دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غیر روایتی طریقہ اپناتے ہوئے ایرانی

قیادت سے طویل ملاقاتیں کیں اور ان سے کئی امور پر کھل کر بات کی ، وہ وہاں کئی دن رہے جس سے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے دوران سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی ان کے ساتھ تھی ۔پاکستان کا بنیادی مقصد ایران اور افغانستان میں بھارت کا اثرو رسوخ کم کرنا ہےجس کیلئے آرمی چیف کی کوششیں

قابل ستائش ہیں، پاکستان کے ایران اور افغانستان لے ساتھ جو تعلقات ہیں اور اس میں جنرل باجوہ کی قیادت میں بطور ادارہ فوج اس خطے میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…