جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں جنرل راحیل شریف کیساتھ مگر۔۔ حامد میر نے جنرل باجوہ کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کیا کہہ دیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جنرل راحیل شریف کے دور میں تاثر یہ تھا کہ فوج سویلین حکومت پر دبائو ڈالتی ہے اور سیاست میں مداخلت کرتی ہےاس تاثر کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے بڑی حد تک زائل کیا ہے، ان کا دورہ افغانستان اور ایران اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سویلین حکومت کے ساتھ مل کر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، حامد میر کی

نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا جو کردار ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے سویلین حکومت کو بائی پاس کر کے کوئی اپنی پالیسی نہیں چلائی۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ، ڈیفنس کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کے تحت کر رہے ہیں۔نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں وزیر اعظم بھی شامل ہیں اور اس کمیٹی کے اجلاس میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں جنرل راحیل شریف کےساتھ مگر ان کا ذکر آجاتا ہے، جنرل راحیل شریف کے مقابلے میں جنرل قمر جاوید باجوہ سویلین حکومت اور اس کے فیصلے کو زیادہ اچھے طریقے سے لے کر چل رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں یہ تاثر تھا کہ فوج سویلین حکومت پر دبائو ڈالتی ہے اور سیاست میں مداخلت کرتی ہے اس تاثر کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے بڑی حد تک زائل کیا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے دورمیں ایران کے صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کے موقع پر فوج کی جانب سے ایک ٹویٹ سامنے آیا جس سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں تنائو آگیا تھا جبکہ اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران کے دوران دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غیر روایتی طریقہ اپناتے ہوئے ایرانی

قیادت سے طویل ملاقاتیں کیں اور ان سے کئی امور پر کھل کر بات کی ، وہ وہاں کئی دن رہے جس سے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے دورہ افغانستان کے دوران سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی ان کے ساتھ تھی ۔پاکستان کا بنیادی مقصد ایران اور افغانستان میں بھارت کا اثرو رسوخ کم کرنا ہےجس کیلئے آرمی چیف کی کوششیں

قابل ستائش ہیں، پاکستان کے ایران اور افغانستان لے ساتھ جو تعلقات ہیں اور اس میں جنرل باجوہ کی قیادت میں بطور ادارہ فوج اس خطے میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…